یہ نا معقول اور اصل بحث سے بالکل دور جواب سنکر حضرت اقدس کو بہت رنج ہوا اور آپ نے فرمایا کہ
ہم نے جو اسے خدا کی قسم دی تھی اس سے فائدہ اٹھاتا یہ نظر نہیں آتا۔اب خد اکی لعنت لے کر واپس جانا چاہتا ہے۔جس بات کو ہم بار بار لکھتے ہیں کہ ہم مباحثہ نہیں کرتے جیسا کہ ہم انجام آتھم میں اپنا عہد دنیا میں شائع کر چکے ہیں۔تو اب اس کا منشا ہے کہ ہم خدا کے اس عہد کو توڑدیں۔یہ ہرگز نہ ہوگا۔اور پھر اس رقعہ میں کس قدر افتراع سے کام لیا گیا ہے کیونکہ جب ہم اسے اجازت دیتے ہیں کہ ہر ایک گھنٹہ کے بعد وہ دو تین سطریں ہماری تقریر پر اپنے شبہات کی لکھ دیوے تو اس طرح سے خواہ اس کی دن میں تیس سطور ہو جاویں ہم کب گریز کرتے ہیں اور خواہ ایک ہی پیشگوئی پر وہ ہم سے دس دن تک سنتا رہتا اور اپنے وساوس اس طرز سے پیش کرتا رہتا۔اسے اختیار تھا۔پھر ایک دوسرا جھوٹ یہ بولا ہے۔کہ لکھتا ہے کہ آپ مجمع پسند نہیں کرتے۔بھلا ہم نے کب لکھا ہے کہ ہم مج۶مع پسند نہیں کرتے بلکہ ہم تو عام جلسہ چاہتے ہیں۔کہ تمام قادیان کے لوگ اور دوسرے بھی جس قدر ہوں جمع ہوں تا کہ ان لوگوں کی بے ایمانی کھلے کہ کس طرح یہ لوگوں کو فریب دے رہے ہیں۔اگر اسے حق کی طلب ہوتی تو اسے ہمارے شرائط ماننے میں کیا عذر تھا مگر یہ بدنصیب واپس جاتا نظر آتا ہے۔
پھر مولوی محمد احسن صاحب کو حضور نے فرمایا کہ
آپ اس کا جواب لکھ دیں مجھے فرصت نہیں۔میں کتاب لکھ رہا ہوں۔
یہ کہہ کر حضور تشریف لے گئے اور مولوی محمد احسن صاحب نے رقعہ کا جواب تحریر فرمایا اس کے بعد کوئی جواب مولوی ثناء اﷲ صاحب کی طرف سے نہ آیا۔اور وہ قادیان سے چلے گئے۔؎ٰ
۱۲؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز دوشنبہ
اﷲ تعالیٰ کے راستے میں زمین دینے کا ایک طریق
ظہر کے وقت ایک شخص نے حصرت اقدس سے عرض کی کہ میرے پاس کچھ زمین ہے۔