حضرت اقدس نے فرمایا کہ ابھی لکھ کر دیا جاتا ہے۔ پھر بقیہ حصہ آپ نے لکھ کر اپنے خدام کے حوالہ کیا کہ اس کی نقل کر کے روانہ کردو۔ وہ حصہ رقعہ کا یہ ہے۔ ’’بالا آخر اس غرض کے لئے اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں تو قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جاویں۔ دو قسموں کا ذکر ہوتا ہے (۱) اول چونکہ میں انجام آتھم میں خد اسے قطعی عہد کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے قطعی بحث نہیں کروں گا۔اس وقت پھر اسی عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا۔صرف آپ کو یہ موقعہ دیا جاوے گا کہ آپ اول ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا عتراض کسی پیشگوئی پر ہوایک سطر یا دو سطے یا حد تین سطے تک لکھ رک پیش کریں جس کا یہ مطلب ہو کہ یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی اور منہاج نبوت کی رو سے قابل اعتراض ہے اور پھر چپ رہیں اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں۔پھر دوسرے دن دوسری پیشگوئی اسی طرح لکھ کر پیش کریں۔یہ تو میری طرف سے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جائوں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہیں ہوگی کہ کوئی کلمہ بھی زبانی بول سکیں اور آپ کو بھی خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر آپ سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابندہ ہو جاویں اور ناحق فتنہ و فساد میں عمر بسر نہ کریں۔اب ہم دونو میں سے ان دونو قسموں میں سے جو شخص اعراض کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہو اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے۔آمین۔سو میں دیکھوں گا کہ آ؁ سنت نبویہ کے موافق اس قسم کو پورا کرتے ہیں یا قادیان سے نکلتے ہوئے اس لعنت کو ساتھ لے جاتے ہیں چاہئے کہ اول آپ اس عہد موکد قسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطے کا لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں مجمع کیا جائے گا۔اور آپ کو بتلا یا جاوے گا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دور کر دئے جائیں گے‘‘۔ رقعہ دے کر آپ تشریف لے گئے اور اندر سے حضور نے کہلا بھیجا کہ رقعہ وہاں ان کو جا کر سنا دیا جاوے اور پھر ان کے حوالہ کیا جاوے۔ چنانچہ یہ رقعہ مولوی ثناء اﷲ صاحب کو پہنچا دیا گیا۔تھوڑے عرصہ کے بعد پھر مولوی ثناء اﷲ صاحب کی طرف سے جواب الجواب آیا۔؎ٰ