لیں گے۔مگر چاہئے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں۔یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔میں باواز بلند لوگوں کو سنادوں گا کہ اس پیشگوئی کی نسبت مولوی ثناء اﷲ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ ئواب ہے۔اس طرح تمام وساوس دور کر دیئے جائیں گے۔لیکن اگر چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقعہ دیا جاوے تو ہر گز نہ ہوگا۔۱۴؍جنوری ۱۹۰۳ء تک میں اس جگہ ہوں۔بعد میں ۱۵؍جنوری کو ایک مقدمہ پر جہلم جائوں گا۔سو اگر چہ بہت کم فرصتی ہے۔لیکن ۱۴؍جنوری تک آپ کے لئے تین گھنٹے تک خرچ کر سکتا ہوں۔اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیویں تو یہ ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ورنہ ہمارا اورآپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے خود خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔والسلام علی من اتبع الہدی۔سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہوگا کہ آپ بذریعہ تحریر جو سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہوایک ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جاویں گے اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جائوں گا۔ایسے ہی صدہا آدمی آتے ہیں اور وسوسہ دور کرا لیتے ہیں۔ ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس ابات کو پسند کرے گا۔اس کو وساوس دور کرانے ہیں اور کچھ غرض نہیں۔لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں۔
میرزا غلام احمد
اور فرمایا کہ
یہ طریق بہت امن کا ہے۔اگر یہ نہ کیا جاوے تو بدامنی اور بد نتیجہ کا اندیشہ ہے۔
پھر فرمایا کہ
ایک رئویا
ابھی حجر کو میں نے ایک خواب دیکھا۔
کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔اس کے ایک طرف کچھ اشتہار ہے اور دوسری طرف ہماری طرف سے کچھ لکھا ہوا ہے جس کا عنوان یہ ہے
یقیۃ الطاعون
اس کے بعد فجر کی نماز ہوئی تو حضرت اقدس نے قلم دوات طلب فرمائی اور فرمایا کہ تھوڑا سا اور اس رقعہ پر لکھنا ہے۔
اتنے میں مولوی ثناء اﷲ صاحب کے قاصد پھرآموجود ہوئے اور جواب طلب کیا۔