ثناء اﷲ صاحب کے رقعہ کے جواب میں تحریر فرمایاتھا۔احباب کو سنایا۔وہ رقعہ یہ تھا۔
بسم اﷲ الرحمن الرحم نحمدہ ونصلی علی رسو لہ الکریم
از طرف عایذ باﷲ الصمد غلام احمد عافاہ اﷲ واید
بخدمت مولوی ثناء اﷲ صاحب۔
آپ کا رقعہ پہنچا۔اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو۔کہ اپنے شکوک و شبہات پیشگوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں‘ رفع کروایں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی اور اگر چہ میں کئی سال ہوئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں۔کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہ کروں گا کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ نہیں ہوا مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں۔اگر چہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا ہے کہ طالب حق ہوں مگر مجھے تامل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں۔کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ایک بات کو کشاں کشان بے ہودہ اور مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروںل گا۔سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اول یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوت سے بہر نہیں جائیں گے۔اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرت ﷺ پر یا حضرت عیسیٰ ؑ پر یا حضرت موسیٰ ؑپر یا حضرت یو نسؑ پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن شریف کی پیشگوئیوں پر زد نہ ہو۔دوسری شرط یہ ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے مجاز نہ ہوں گے۔صرف آپ مختصر ایک سطر یا دوسطر تحریر دے دیں گے کہ میرا یہ اعتراض ہے۔پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جائے گا۔اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔تیسری یہ شرط ہوگی‘ کہ ایک دن میں صرف ایک ہی آپ اعتراض پیش کریں گے کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے۔چوروں کی طرح آگئے ۔اور ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹہ سے زیادہ صرف نہیں کرسکتے۔یاد رہے کہ یہ ہرگز نہ ہوگا کہ عوام کا لانعام کے روبرو آپ واعظ کی طرح ہم سے گفتگو شروع کر دیں بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔جیسے صم بکم ۔یہ اس لئے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جاوے۔اور صرف ایک پیشگوئی کی نسبت سوال کریں۔میں تین گھنٹہ تک اس کا جاوب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا اجوے گا۔کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سناویں ہم خود پڑھ