کی کیا غرض تھی۔ اس وقت یہ عقدہ حل ہوا کہ غالباً دوسرا رقعہ دستخط یعنی رسید رقعہ لینے کی غرض سے تھا۔مگر قاصد کو رسید مانگنے کی جرأت نہ ہوئی اور وہ رقعہ اس وقت سید سرور شاہ صاحب کے حاوالہ کیا گیا۔کہ وہ اسے پڑھ کر اہل مجلس کو سنا دیویں۔ اس کے بعد حضرت اقدس نے فرمایا :- ہم تیار ہیں وہ ہفتہ عشرہ آرام سے سب باتیں سنے اور اگر اس کا منشاء مباحثہ کا ہو تو یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ اب مدت ہوئی کہ ہم مباحثات کو بند کر چکے ہیں۔اگر اس کو طلب حق کی ضرورت ہے تو وہ رفق اور آہستگی سے اپنی غلطی دور کروائے۔طالب حق کے لئے ہمارا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ہاں جو شخص ایک منٹ رہ کر چلا جانا چاہتا ہے اور اسے فتح اور شکست اور ہار اور جیت کا خیال ہے وہ مستفید نہین ہو سکتا۔بجز ایسے شخص کے جو نیک نیت بن کر آوے ہم تو دوسرے کے ساتھ کلام کرنا بھی تضیع اوقات خیال کرتے ہیں۔ہمیں تعجب ہے کہ وہ کیوں گھمار کے ہاں جا کر اترے۔چاہئے تھا کہ مستفیدوں کی طرح آتا اور ہمارے مہمان خانہ میں اترتا۔ پھر فرمایا۔ہم اس رقعہ کا صبح کو جواب دیں گے۔ اس کے بعد حضرت اقدس نماز سے فارغ ہو کر تشریف لے چلے تو ثناء اﷲ صاحب کے قاصد نے آوازدی کہ حضرت جی۔مولوی ثناء اﷲ صاحب کے رقعہ کا کیا جواب ہے حضرت نے فرمایا کہ صبح کو دیا جائے گا۔ قاصد نے کہا کہ میں آکر جواب لے جائوں یا آپ بذریعہ ڈاک روانہ کریں گے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔خواہ تم آکر لے جائو خواہ ثناء اﷲ آکر لے جاوے۔پھر آپ نے قاصد کا نام پوچھا ۔اس کہا محمد صدیق۔؎ٰ ۱۱؍جنوری ۱۹۰۳ء؁ بروز یکشنبہ مولوی ثناء اﷲ کے رقعہ کا جواب فجر کی نماز کو جب حضرت اقدس تشریف لائے تو قبل از نماز آپ نے وہ رقعہ جو مولوی