دوسرا ثبوت نشانات ہیں جن سے بہت صفائی سے استنباط ہوتا ہے وہی ثبوت ہمارے ساتھ بھی ہیں اور جس قاعدہ سے خدا تعالیٰ نے یہ نشانات دکھلائے ہیں اگر اسی طرح شمار کریں تو یہ بیس لاکھ سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ
یاتون من کل فج عمیق
اور
یاتیک من کل ھج عمیق
کی تحت میں آکر ہر ایک شخص جو ہمارے پاس آتا ہے ہر ایک ہدیہ اور نذر جو پیس ہوتی ہے ایک ایک نشان الگ الگ ہے مگر ہم نے صرف ایک سو پچاس نشان نزول المسیح میں درج کئے ہیں۔جن کے ہزارہا گواہ موجود ہیں۔پھر دیکھو یہ کس وقت کی خبر ہے۔قرآن کے نصوص‘ حدیث کی اخبار اور مکاشفات اور رویاء وغیرہ سب ہماری تائید میں ہیں’پھر اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کے نشانات۔پھر زمانہ کی موجودہ ضرورت‘ یہ سب ثبوت پیش کرنے کے قابل ہیں۔اس وقت خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ لوگوں کو غلطیوں سے نکالے اور تقویٰ پر قائم کرے۔خدا تعالیٰ جس کو چاہے گا بلا تا جاوے گا۔یہ اس کی طرف سے ایک دعوت ہے جو بلایا جاتا ہے۔اسے فرشتے کھینچ کھینچ کر لے آتے ہیں۔؎ٰ
۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء
مولوی ثناء اﷲ صاحب کا قادیان آنا
عصر کے وقت خدا تعالیٰ کے برگزیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خبر ہوئی کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب امرتسری قادیان آئے ہوئے ہیں مگر آپ نے اس کے متعلق صرف یہی فرمایا کہ ہازروں لوگ راہرو آتے ہیں ہمیں اس سے کیا؟
مغرب کی نماز باجماعت ادا کر کے جب حضرت اقدس دولت سرا کو تشریف لے چلے تو ایک شخص نے ہاتھ میں قلم دوات لئے ہوئے حضرت اقدس کی خدمت میں کچھ کاغذات پیش کئے۔اس قلم دوات سے اس کی یہ غرض تھی کہ حضرت سے رقعہ کی رسید لے مگر حضرت نے توجہ نہ کی اور اس کے وہ کاغذات لے کر تشریف لے گئے اور جب عشاء کی نماز کے واسطے تشریف لائے تو فرمایا کہ
ایک ہی مضمون کے دو رقعے مولوی ثناء اﷲ صاحب کی طرف سے پہنچے ہیں۔نہ معلوم دو رقعوں