حال ہوں گے اور خدو خدا بھی ملے گا تو یہ طریق ہے جس پر کاربند ہونا چاہیے۔مگر ظالم فاسق کی دعا قبول نہیں ہوا کرتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے لاپروا ہے۔ایک بیٹا اگر باپ کی پروا نہ کرے اور ناخلف ہو تو باپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تو خد اکو کیوں ہو۔
دعا اور ابتلاء
ایک صاحب نے عرض کی کہ بلعم باعور کی دعا کیوں قبول ہوئی تھی؟ فرمایا :-
یہ ابتلا تھا دعا نہ تھی آخر وہ مارا ہی گیا۔دعا وہ ہوتی ہے جو خدا کے پیارے کرتے ہیں ورنہ یوں تو خدا تعالیٰ ہندوئوں کی بھی سنتا ہے اور بعض ان کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں۔مگر ان کا نام ابتلا ہے دعا نہیں۔مثلاً اگر خدا سے کوئی روٹی مانگے تو کیا نہ دے گا؟ اس کا وعدہ ہے۔
مامن دابۃ فی الارض الا علی اﷲ رزقھا (ھود : ۷)
کتے بلی بھی تو اکثر پیٹ پالتے ہیں۔کیڑوں مکوڑوں کو بھی رزق ملتا ہے مگر
اصطفینا (فاطر : ۳۳)
کا لفظ خاص موقعوں کے لئے ہے۔
مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت
یہاں تک تقریر حضرت اقدس نے مبائعین کے واسطے کی جن میں سے ایک توشیخ نور احمد صاحب پلیڈر اور دوسرے حامد علی شاہ صاحب بدوملی تھے۔اس کے بعد حضور انور نے پھر ابو سعید عرب صاحب کو مخاطت ہو کر فرمایا کہ
آپ نے جو ثبوت مسیحیت کے دعویٰ کے بارے میں پوچھا تھا۔یہ بہت ضروری بات تھی اور اس کو خوب یاد رکھنا چاہئے۔اگر آپ سے کوئی ان ممالک (ملک برما) میں پوچھے کہ ہماری صداقت کا کیا ثبوت ہے تو مختصر طور پر یہی جواب دینا چاہئے کہ وہی ثبوت ہے جو کہ موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام اور آنحضرت ﷺ کے سچے ہونے کا ہے تمام انبیاء کی صداقت کے دو ہی ثبوت ہوتے ہیں۔اول۔کتب سابقہ میں ان کا ذکر مگر وہ استعارہ کے رنگ میں ضرور ہوتا ہے اور اس میں ایک پہلو ٹھوکر کا بھی ہوتا ہے۔جیسے یہود کو دھوکا لگا کہ آنحضرت ﷺ کو تو بنی اسرائیل میں سے آنا چاہئے تھا۔بنی اسماعئیل میں سے کیوں ہوئے۔اور پھر اسی طرح مسیح کے وقت الیاس کے منتظر رہے۔ان معاملوں میں اب تک جھگڑتے ہیں یہ سب ان کی بکواس ہے۔
اسی طرح ہمارا ذکر کتب سابقہ میں ہے۔اگر کوئی ہم سے بھی اسی طرح بکواس سے جھگڑا کرے تو انہیں میں سے ہوگا۔