منشاء اس بیان سے یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اس کی تائید میں صدہا نشان اس نے ظاہر کیے ہیں۔ اس سے اس کی غرض یہ ہے کہ یہ جماعت صحابہؓ کی جماعت ہو اورپھر خیرالقُرون کا زمانہ آجاوے۔ جو لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں چونکہ وہ آخرین منہم میں داخل ہوتے ہیں، اس لیے وہ جھوٹے مشاغل کے کپڑے اُتار دیں۔ اور اپنی ساری توجّہ خدا تعالیٰ کی طرف کریں۔ فیج اعوج (ٹیڑھی فوج) کے دشمن ہوں۔ اسلام پار تین زمانے گذرے ہیں۔ ایک قُرون ثلاثہ اِس کے بعد فیج اعوج کا زمانہ جس کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ لیسوامنی ولست منھم۔ یعنی نہ وُہ مجھ سے ہیں اور نہ میں اُن سے ہوں اور تیسرا زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے زمانہ سے ملحق ہے بلکہ حقیقت میں یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے۔ فیج اعوج کا ذکر اگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بھی فرماتے تو یہی قرآن شریف ہمارے ہاتھ میں ہے اور اخرین منہم لما یلحقو ابہم (الجمعۃ: ۴) صاف ظاہر کرتا ہے کہ کوئی زمانہ ایسا بھی ہے جو صحابہ کے مشرب کے خلاف ہے اور واقعات بتا رہے ہیں کہ اس ہزار سال کے درمیان اسلام بہت ہی مشکلات اور مصائب کا نشانہ رہا ہے۔ معدُودے چند کے سِوا سب نے اسلام کو چھوڑ دیا اور بہت سے فرقے معتزلہ اور اباحتی وغیرہ پیدا ہو گئے ہیں۔
ہم کو اس بات کا اعتراف ہے ۔ کہ کوئی زمانہ ایسا نہیں گذرا کہ اسلام کی برکات کا نمونہ موجود نہ ہو۔ مگر وہ ابدال اور اولیاء اﷲ جو اس درمیانی زمانہ میں گُذرے ان کی تعداد اس قدر قلیل تھی کہ ان کروڑوں انسانوں کے مقابلہ میں جو صراطِ مستقیم سے بھٹک کر اسلامؔ سے دُور جا پڑے تھے۔ کچھ بھی چیز نہ تھے۔ اس لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوُت کی آنکھ سے اس زمانہ کو دیکھا اور اس کا نام فیج اعوج رکھ دیا۔ مگر اب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایک اور گروہ کثیر کو پیدا کرے جو صحابہ کا گروہ کہلائے، مگر چونکہ خدا تعالیٰ کا قانُونِ قدرت یہی ہے کہ اس کے قائم کردہ سلسلہ میںتدریجی ترقی ہوا کرتی ہے اس لیے ہماری جماعت کی ترقی بھی تدریجی اور کزرع (کھیتی کی طرح) ہو گی۔ اور وہ مقاصد اور مطالب اس بیج کی طرح ہیں، جو زمین میں بویا جاتا ہے۔ وہ مراتب اور مقاصد عالیہ جن پر اﷲ تعالیٰ اس کو پہنچانا چاہتا ہے، ابھی بہت دُور ہیں۔ وُہ حاصل نہیں ہو سکتے ہیں، جبتک وہ خصوصیّت پیدا نہ ہو جو اس سلسلہ کے قیام سے خدا کا منشاء ہے۔ توحید کے اقرار میں بھی خاص رنگ ہو ۔ تبتّل اِلی اﷲ ایک خاص رنگ کا ہو۔ ذکرِ الٰہی میں خاص رنگ ہو۔ حقُوقِ اخوان میں خاص رنگ ہو۔
تما م انبیاء علیہم السلا م کی بعثت کی غر ض مشتر ک یہی ہو تی ہے ۔ کہ خدا تعالیٰ کی سچی اور حقیقی محبت قائم کی جاویاور بنی نو ع انسا ن اور اخو ا ن کے حقو ق اور مہبت میں ایک خا ص رنگ پیدا کے جاوے جب تک یہ باتیں نہ ہو ں تمام امور صر ف رسمی ہو ں گے ۔