اشارہ کے بھی لکھے ہیں۔مگر جب مار کھانے کا زمانہ گذرجاتا ہے تو پھر وحی کا زمانہ آتا ہے اور یہ بات ضروری ہے کہ یہ مرحلہ سہولت سے طے نہیں پاتا۔کیونکہ تقویٰ ایسی ظئے نہیں جو کہ صرف منہ سے انسان کو حاصل ہو جاوے بلکہ یہ شیطانی گناہ کا کوئی حصہ دار ہے۔اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے ذرا سی شیرینی رکھ دیں تو بے شمار چیونٹیاں اس پر آجاتی ہیں۔یہی حال شیطانی گناہوں کا ہے اور اسی سے انسانی کمزوری کا حال معلوم ہوتا ہے۔اگر خدا چاہتا تو ایسی کمزوری نہ رکھتا۔
ہر طاقت کا سرچشمہ خد اتعالیٰ ہے
مگر خدا تعالیٰ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا علم ہو کہ ہر ایک طاقت کا سرچشمہ خد اہی کی ذات ہے۔کسی نبی یا رسول کو یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اپنے پاس سے طاقت دے سکے اور یہی طاقت جب خدا کی طرف سے انسان کو ملتی ہے تو اس میں تبدیلی ہوتی ہے اس کے حاصل کرتے کے واسطے ضروری ہے کہ دعا سے کام لیا جاوے اور نماز ہی ایک ایسی نیکی ہے جس کے بجا لانے سے شیطانی کمزوری دور ہوتی ہے اور اسی کا نام دعا ہے۔شیطان چاہتا ہے کہ انسان اس مٰن کمزور رہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس قدر اصلاح اپنی کرے گا۔وہ اسی ذریعہ سے کرے گا۔پس اس کے واسطے پاک صاف ہونا شرط ہے۔جب تک گندگی انسان میں ہوتی ہے۔اس وقت تک شیطان اس سے محبت کرتا ہے
دعا کے آداب
خدا تعالیٰ سے مانگنے کے واسطے ادب کا ہونا ضروری ہے اور عقلمند جب کوئی شئے بادشاہ سے طلب کرتے ہیں تو ہمیشہ ادب کو مد نظر رکھتے ہیں۔اسی لئے سورۂ فاتحہ میں خد اتعالیٰ نے سکھایا ہے کہ کس طرح مانگا جاوے اور اس میں سکھایا ہے کہ
الحمد للہ رب العلمین
یعنی سب تعریف خد اکو ہی ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔ الرحمن یعنی بلا مانگے اور سوال کئے کے دینے والا۔ الرحیم یعنی انسان کی سچی محنت پر ثمرات حسنہ مرتب کرنے والا ہے۔ مالک یوم الدین جزا سزا اسی کے ہاتھ میں ہے۔چاہے رکھے چاہے مارے۔اور جزا سزا آخرت کی بھی اور اس دنیا کی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے جب اس قدر تعریف انسان کرتا ہے تو اسے خیال آتا ہے کہ کتنا بڑا خد اہے جو کہ رب ہے۔رحمان۔رحیم ہے۔اسے غائب مانتا چلا آرہا ہے۔اور پھر اسے حاضر ناظر جان کر پکارتا ہے۔
ایاک نعبد وایا ک نستعین۔اھدنا الصراط المستقیم
یعنی ایسی راہ جو کہ بالکل سیدھی ہے۔اس میں کسی قسم کی کجی نہیں ہے ایک راہ