اندھوں کی ہوتی ہے کہ محنتیں کر کے تھک جاتے ہیں اور نتیجہ کچھ نہیں نکلتا اور ایک وہ راہ کہ محنت کرنے سے اس پر نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔ پھر آگے صراط الذین انعمت علیھم یعنی ان لوگوں کی راہ جن پر تونے انعام کیا اور وہ وہی صراط مستقیم ہے جس پر چلنے سے انعام مرتب ہوتے ہیں۔پھر غیر المغضوب علیھم نہ ان لوگوں کی جن پر تیرا غضب ہوا۔اور ولاالضالین اور نہ ان کی جو دور جا پڑے ہیں۔ اھدنا الصراط المستقیم سے کل دنیا اور دین کے کاموں کی راہ مراد ہے۔مثلاً ایک طبیب جب کسی کا علاج کرتا ہے۔تو جب تک اسے ایک صراط مستقیم ہاتھ نہ آوے۔علاج نہیں کر سکتا ۔اسی طرح تمام وکیلوں اور ہر پیشہ اور علم کی ایک صراط مستقیم ہے۔کہ جب وہ ہاتھ آجاتی ہے تو پھر کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔اس مقام پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ انبیاء کو اس دعا کی کیوں ضرورت تھی وہ تو پیشتر ہی سے صراط مستقیم پر ہوتے ہیں۔ تلمیذ الرحمن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ یہ دعا ترقی مراتب اور درجات کے لئے کرتے ہیں بلکہ یہ اھدنا الصراط المستقیم تو آخرت میں مومن بھی مانگیں گے کیونکہ جیسے اﷲ تعالیٰ کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح اس کے درجات اور مراتب کی ترقی کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔؎ٰ تقویٰ کی حقیقت (پھر اصل مضمون تقویٰ پر فرمایا ) کہ متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موتی باتوں جیسے زنا‘ چوری‘ تلف حقوق‘ ریا‘عجب‘حقارت‘بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔لوگوں سے مروت‘ خوشی خلقی‘ ہمدردی سے پیش آوے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ سچی وفا اور صدق دکھلاوے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں۔وہی اصل متقی ہوتے ہیں (یعنی اگر ایک ایک خلق فرداً فرداً کسی میں ہوں تو اسے متقی نہ کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں) اور ایسے ہی شخصوں کے لئے لا خوف علیھم ولاھم یحزنون (البقرہ : ۶۲)