لی۔تو ایسے انسان کتے بلی کے سے ہی ہوتے ہیں انجام کار پکڑے جاتے ہیں۔جیل خانوں میں جاتے ہیں جا کر دیکھو تو ایسے مسلمانوں سے زندان بھرے ہوئے ہیں ؎ حضرت انساں کہ حد مشترک را جامع است می تواند شد مسیحا می تواند شد خرے دنیا کیلئے کوشش حدِّاعتدال تک ہو تو اب یہ موقع ہے اور خدا تعالیٰ کی لہروں کے دن ہیں یعنی جیسے بعض زمانہ خد اکی رحمت کا ہوتا ہے اور اس میں لوگ قوت پاتے ہیں۔ایسے ہی یہ وقت ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ بالکل دنیا کے کاروبار چھوڑ دیوے بلکہ ہمارا منشا یہ ہیکہ حد اعتدال تک کوشش کرے اور دنیا کو اس نیت سے کماوے کہ دین کی خادم ہو مگر یہ ہرگاز روا نہیں ہے کہ اس میں ایسا انہماک ہو جاوے کہ دین کا پہلو بھول ہی جاوے نہ روزہ کی خبر ہے نہ نماز کی۔جیسے کہ آج کل لوگوں کی حالت دیکھی جاتی ہے۔مثال کے طور پر دلی کا جلسہ ہی اب دیکھ لو جہاں کہتے ہیں کہ پندرہ لاکھ آدمی جمع ہوا ہے۔میرا تصور تو یہی ہے کہ سارے دنیا پرست ہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ سب سے زیادہ خد اسے نفرت دلانے والے سلاطین ہی ہیں کیونکہ یہ مثل ایک بردیوی کے ہوتے ہیں جس قدر ان کا قرب زیادہ ہوتا ہے۔اتنا ہی قلب سخت ہوتا ہے۔ہم کسی کو تجارت سے منع نہیں کرتے کہ وہ بالکل ترک کر دیوے مگر یہ کہتے ہیں کہ وہ ذرا سوچیں اور دیکھیں کہ ان کے باپ دادا کہاں ہیں؟بڑے بڑے عزیز انسان کے ہوا کرتے ہیں اور کس طرح وہ ان کے ہاتھوں میں ہی اٹھ جایا کرتے ہیں اور موت کس طرح آپس میں میں تفرقہ ڈال دیتی ہے۔ سال دیگر را کہ می داند حساب تا کجا رفت آں کہ باما بود یار اب طاعون کی بلا سروں پر ہے کہتے ہیں کہ اس کی معیاد ستربرس ہوا کرتی ہے ارو اس کے آگے کوئی حیلہ پیش نہیں جاتا سب (حیلے) فضول ہوا کرتے ہیں۔اور اسی لئے آتی ہے کہ خد اکے وجود کو منوا دیوے۔سو اسکا وجود برحق ہے۔اور خد اکی بلا سے سوائے خدا کے کوئی بچا نہیں سکتا۔سچا تقویٰ اختیار کرو کہ خد اتعالیٰ تم سے راضی ہو۔جب شریر کی گھوڑے کی طرح انسان ہوتا ہے تو ماریں کھاتا ہے۔اور جو خاص لوگ ہیں وہ اشارات سے چلتے ہیں جیسے سدھا ہوا گھوڑا اشارے سے چلتا ہے اور ان کو وحی اور الہام ہوتے ہیں ارو لطف کی بات یہ ہے کہ وحی کے معنے