وہی تازہ بتازہ قرآن موجود ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کاہ تھا۔ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر : ۱۰) بہت سا حصہ احادیث اک بھی موجود ہے اور برکات بھی ہیں مگر دلوں میں ایمان اور عملی حالت بالکل نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے اسی لئے مبعوث کیا ہے کہ یہ باتیں پھر پیدا ہوں۔خدا نے جب دیکھا کہ میدان خالی ہے تو اس کی الوہیت کے تقاضا نے ہرگز پسند نہ کیا کہ یہ میدان خالی رہے اور لوگ ایسے ہی دور رہیں اس لئے اب ان کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ ایک نئی قوم زندوں کی پیدا کرنا چاہتا ہے اور اسی لئے ہماری تبلیغ ہے کہ تقویٰ کی زندگی حاصل ہو جاوے۔ صرف ترک شر کافی نہیں آدمی کئی قسم کے ہیں بعض ایسے کہ بدی کر کے پھر اس پر فخر کرتے ہیں۔بھلا یہ کونسی صفت ہے جس کے اوپر ناز کای جاوے۔شر سے اس طرح پرہیز کرنا نیکی میں داخل نہیں ہے۔اور نہ اس کا نام حقیقی نیکی ہے۔کیونکہ اس طرح تو جانور بھی سیکھ سکتے ہیں۔میاں حسین بیگ تاجر ایک شخص تھا اس کے پاس ایک کتا تھا وہ اسے کہہ جاتا کہ روٹی کو دیکھتا رہ تو وہ روٹی کی حفاظت کرتا۔اسی طرح ایک بلی کو سنا ہے کہ اسے بھی ایسے ہی سکھایا ہوا تھا۔جب بعض لوگوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے امتحان کرنا چاہا۔اور ایک کوٹھڑی کے اندر حلوہ‘ دودھ اور گوشت وغیرہ ایسی چیزیں رکھ کر جس پر بلی کو ضرور لالچ آوے اس بلی کو چھوڑ کر دروازہ کو بند کر دیا کہ دیکھیں اب وہ ان اشیاء میں سے کھاتی ہے کہ نہیں۔پھر جب ایک دو دن کے بعد کھول کر دیکھا تو ہر ایک شئے اسی طرح پڑی تھی اور ملی مری ہوئی تھی اور اس نے کسی شئے کو ہلایا تک بھی نہ تھا۔اس لئے اب شرم کرنی چاہئے کہ انہوں نے حیوان ہو کر انسان کا حکم ایسا مانا اور یہ انسان ہو کر خدا تعالیٰ کے حکم کو نہیں مانتا۔ نفس کو تنبیہہ کرنے کے واسطے ایسی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور بہت سے وفادار کتے بھی مجود ہیں مگر افسوس اس کے لئے کہ جو کتے جتنا مرتبہ بھی نہیں رکھتا تو بتلادے کہ پھر وہ خدا سے کیا مانگتا ہے؟ انسان کو تو خدا نے وہ قویٰ عطا کئے ہیں کہ اور کسی مخلوق کو عطا نہیں کئے۔شر سے پرہیز کرنے میں تو بہائم بھی اس کے شریک ہیں۔بعض گھوڑوں کو دیھکا ہے کہ چابک آقا کے ہاتھ سے گر پڑی۔تو منہ سے اٹھا کر اسے دیتے ہیں اور اس کے کہنے سے لیٹتے ہیں اور بیٹھتے ہیں اور اٹھتے ہیں اور پوری اطاعت کرتے ہیں تو یہ انسان کا فخر نہیں ہو سکتا کہ چند گنے ہوئے گناہ ہاتھ پائوں وغیرہ دیگر اعضاء کے جو ہیں ان سے بچا رہے۔جو لوگ ایسے گناہ کرتے ہیں وہ تو بہائم سیرت ہیں جیسے کتے بلیوں کا کام ہے کہ ذرا برتن ننگا دیکھا تو منہ ڈال لیا اور کوئی کھانے کی شئے ننگی دیکھی تو کھا