یہود اور نصاریٰ کی افراط اور تفریط یہود اور عیسائیوں کی نسبت فرمایا کہ وہ دونو ضدین ہیں۔ایک نے بڑھا دیا ہے ایک نے گھٹا دیا ہے۔ان کی مثال رافضیوں اور خارجیوں سے خوب ملتی ہے۔جیسے یہودی کے آگے عیسائی نہیں ٹھہرتا ایسے ہی خارجی کے آگے رافضی نہیں ٹھہرتا۔؎ٰ ۸؍جنوری ۱۹۰۳ء؁ بروز پنجشنبہ جماعت کیلئے ضروری نصائح نماز مغرب کے بعد شیخ نور احمد صاحب پلیڈر ایبٹ آباد اور سید حامد علی شاہ صاحب بدوملہی اور ایک اور صاحب نے بیعت کی۔ بعد بیعت حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ ا س پر آشوب زمانہ میں جبکہ ہر طرف ضلالت‘ غفلت اور گمراہی کی ہوا چل رہی ہے تقویٰ اختیار کریں۔دنیا کا یہ حال ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے احکام کی عظمت نہیں ہے۔حقوق اور وصایا کی پروا نہیں ہے۔دنیا اور اس کے کاموں میں حد سے زیادہ انہماک ہے۔ذرا سا نقصان دنیا کا ہوتا دیکھ کر دین کے حصہ کو ترک کر دیتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کے حقوق ضائع کر دیتے ہیں۔جیسے کہ یہ سب باتیں مقدمہ بازیوں اور شرکاء کے ساتھ تقسیم حصہ میں دیکھی جاتی ہیں۔لالچ کی نیت سے ایک دوسرے سے پیش آتے ہیں۔نفسانی جذبات کے مقابلہ میں بہت کمزور واقع ہوئے ہیں۔اس وقت تک کہ خد انے ان کو کمزور کر رکھا ہے گناہ کی جرات نہیں کرتے مگر جب ذرا کمزوری رفع ہوئی اور گناہ کا موقع ملا تو جھٹ اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔آج اس زمانہ میں ہر ایک جگہ تلاش کر لو۔تو یہی پتہ ملے گا کہ گویا سچا تقویٰ اٹھ گیا ہوا ہے اور سچا ایمان بالکل نہیں ہے۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور ہے کہ ان کے سچے تقویٰ اور ایمان کا تخم ہرگز ضائع نہ کرے۔جب دیکھتا ہے کہ اب فصل بالکل تباہ ہونے پر آتی ہے تو اور فصل پید اکر دیتا ہے۔