سیرت مسیح موعود کی چند باتیں حضور نے نماز مغرب ادا کر کے مجلس کی اور ایک دو مختلف ذکروں کے بعد میاں احمد دین صاحب از گوجرانوالہ نے عرض کی کہ اگر جناب ٹھیک ٹھیک پتہ یہاں سے روانگی کا فر مادیں تو کچھ کھانے پینے کا انتظام کر کے گوجرانوالہ پر حاضر رہوں۔خدا کے برگزیدہ نے فرمایا کہ ہمیں تو خدا ہی نے لے جانا ہے۔اسی کے حکم سے جانا ہے۔ابھی کیا معلوم کس وقت روانہ ہونا ہے۔انسان بہت عاجز اور ہیچ ہے۔خدا ہی کے ساتھ وہ جاتا ہے اور خدا ہی کے ساتھ آتا ہے۔ دیگر احباب نے عرض کی کہ ایک اور صاحب نے راستہ کی خوراک وغیرہ کا انتظام کر لیا ہے اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ دل میں جو اخلاص ہے اس کا ثواب آپ لیویں گے۔کیونکہ اب دعوت آپ کی طرف سے تو پیش ہو گئی۔ علالت طبع پر فرمایا کہ اب دو تین دن سیر بند رہے گی۔کیونکہ آج کل بارشیں نہیں ہوتیں۔اس لئے راستہ میں خاک بہت اڑتی ہے اور اسی سے میں بیمار ہو گیا تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ چونکہ لگو حضور کے آگے چلتے ہیں۔اس لئے خاک اڑ کرآپ پر پڑتی ہے۔لیکن مجسمۂ رحمت انسان نے جواب دیا کہ نہیں۔بارش کے نہ ہونے سے یہ تکلیف ہے۔(اﷲ اﷲ کیا رحم ہے اور حسن ظہن ہے کہ اپین احباب کو ہر گز ملزم نہیں ٹھہراتے ) سلسلہ کی تصنیفات تصنیفات کے ذکر پر فرمایا کہ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ ہامرے مخالف ہازروں ہی ہیں اور ان کے مقابل میں ہماری جماعت بہت قلیل ہے۔مگر ہماری طرف سے جس قدر تازہ بتازہ کتابیں کثرت سے نکل رہی ہیں۔ان کی طرف سے معدودے چند بھی نہیں نکلتیں اور کوئی نکلتی بھی ہے تو اس میں گالیاں ہی ہوتی ہیں جو ان کے لئے شرم کی جگہ ہے۔