ٹوٹتی؟ فرمایا کہ
مسیح کا یہ دعویٰ کہاں ہے کہ جس طرح ہم اپنے آپ کو امت محمدیہ میں اور پھر آنحضرت ﷺ کی اتباع میں فنا شدہ کہتے ہیں۔انہوں نے بھی کہا ہو؟ وہ تو حضرت موسیٰ کی شریعت پر عمل کرنے والے تھے اور مماثلت کا سلسلہ چاہتا ہے کہ کوئی اور ہی آوے وہ نہ آویں۔مماثلت کے یہ معنے نہیں ہیں کہ بالکل اس کا عین ہو۔جیسے کسی کو شیر کہیں تو اب اس کے لئے دم تجویز کریں۔اور پھر گوشت کا کھانا بھی۔خدا کے کلام میں استعارا ت ہوا کرتے ہیں۔مثلاً کسی کو کہا جائے کہ اس نے ایک رکابی چاولوں کی کھائی تو اس کے یہ معنے نہ ہونگے کہ وہ رکابی کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھاگیا۔
مماثلت میں صرف بعض پہلوئوں میں تشابہ ہوتا ہے جیسے آنحضرت ﷺ کو مثیل موسیٰ کہا کہ جیسے موسیٰ نے اپنی قوم کو فرعون سے چھڑایا ۔آنحضرت نے ابھی اپنی قوم کو طاغوت اور بتوں سے رہائی دلوائی۔مشابہت میں ہو بہو عین نہیں ہوتا۔ورنہ وہ تو پھر حقیقت ہوگی نہ کہ مشابہت۔
قادیان
عرب صاحب نے ادھر ادھر غیر آبادی کو دیکھ کر عرض کی کہ یہ صرف حضور ہی کا دم ہے کہ جس کی خاطر اس قدر انبوہ ہے ورنہ اس غیر آباد جگہ میں کون اور کب آتا ہے۔فرمایا کہ اس کی مثال مکہ کی ہے کہ وہاں بھی عرب لوگ دور دراز جگہوں سے جا کر مال وغیرہ لاتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر کھاتے ہیں۔اسی کی طرف اشارہ ہے
لایلف قریش الفھم رحلۃ الشتاء والصیف (قریش : ۲‘۳)
ایک اعتراض کا جواب
لوگوں کے اس اعتراض پر کہ جو شخص لا وارث مرجاتا ہے اس کے وارث مرزا صاحب ہو جاتے ہیں اور اس طرح سے بہت سے ملک املاک جمع کرتے جاتے ہیں۔فرمایا کہ
والد صاحب ایسے دنیاوی کاموں میں مجھے مامور کر دیا کرتے تھے اور ان کے حکم اور رضا مندی کے لئے اکثر مجھے عدالتوں میں بھی جانا پڑتا تھا۔جب سے والد صاحب فوت ہو گئے ہیں کیا کسی نے دیھکا ہے کہ ہم نے اس باتوں میں کوئی حضہ لیا ہے۔حالانکہ ہمیں حق پہنچتا ہے کہ اگر چاہیں تو لے لیویں۔