عبد الرحمان صاحب ہیں۔اگر کوئی جاتا تو گرمیوں میں روانہ ہوتا اور سردیوں میں پہنچاتا تھا۔اس زمانہ کی نسبت خدا تعالیٰ نے خبرد ی ہے
واذاالنفوس زوجت (التکویر : ۸)
کہ جب ایک اقلیم کے لوگ دوسرے اقلیم والوں کے ساتھ ملیں گے۔؎ٰ
واذاالصحف نشرت (التکویر : ۱۱)
یعنی اس وقت خط و کتابت کے ذریعے عام ہوں گے اور کتب کثرت سے دستیاب ہو سکیں گی۔
واذاالعشار عطلت (التکویر : ۵)
اس وقت اونٹنیاں بیکار ہوں گی۔ایک زمانہ تھا کہ یہاں ہزارہا اونٹ آیا کرتے مگر اب نام و نشان بھی نہیں اور مکہ میں بھی اب نہ رہیں گے۔ریل کے جاری ہونے کی دیر ہے۔
کسوف و خسوف اور شقّ القمر
پھر عرب صاحب نے کسوف وخسوف رمضان کی نسبت دریافت کیا کہ اس کا ذکر آپ کی کتب میں ہے کہ نہیں؟فرمایا کہ
یہ ایک پرانا چلا آتا تھا جو اس وقت پورا ہوا ہے۔براہین احمدیہ میں اس کا ذکر استعارہ کے طور پر ہے۔
وان یرو اایۃ یعرضواویقولواسحرمستمر (القمر : ۳)
یہ میرا الہام بھی ہے اور بعض محدثین کا مذہب یہ ہے کہ شق القمر بھی ایک قسم خسوف کا تھا۔
(مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے جواب دیا کہ عبد اﷲ بن عباس کا یہی مذہب ہے)
اور شاہ عبد العزیز بھی یہی کہتے ہیں اور ہامرا مذہب بھی یہی ہے کہ از قسم خسوف تھا۔کیونکہ بڑے بڑے علماء اس طرف گئے ہیں۔
طوفانِ نوح
نوح علیہ السلام کے طوفان کی نسبت فرمایا۔کہ
قرآن شریف سے یہ ثابت نہیں ہے کہ کل زمین کی آبادی کو اس وقت تباہ کر دیا تھا۔صرف نوح (علیہ السلام) کی قوم پر تباہی آئی تھی۔
مماثلت کی حقیقت
ایک شخص نے سوال کیا کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب مسیح ناصری کے آنے سے ختم نبوت ٹوٹتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے ختم نبوت نہیں