قطع پر کچھ ذکر چھیڑا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ انسان کو جیسے باطن میں اسلام دکھانا چاہیے۔ویسے ہی ظاہر میں بھی دکھلانا چاہیے۔ان لوگوں کی طرح نہ ہونا چاہیے۔جنہوں نے آج علیگڑھ میں تعلیم پا کر کوٹ پتلون وغیرہ سب کچھ ہی انگریزی لباس اختیار کر لیا ہے حتیٰ کہ وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کی عورتیں بھی انگریزی عورتوں کی طرح ہوں اور ویسی ہی لباس وغیرہ وہ پہنیں۔جو شخص ایک قوم کے لباس کو پسند کرتا ہے تو پھر وہ آہستہ آہستہ اس قوم کو اور پھر ان کے دوسرے اوضاع و اطوار حتیٰ کہ مذہب کوند کرنے لگتا ہے۔اسلام نے سادگی کو پسند کیا ہے اور تکلفات سے نفرت کی ہے۔ چھری کانٹے سے کھانے پر فرمایا کہ شریعت اسلام نے چھری سے کاٹ کر کھانے سے تو منع نہیں کیا۔ہاں تکلف سے ایک بات یا فعل پر زور ڈالنے سے منع کیا ہے۔اس خیال سے کہ اس قوم سے مشابہت نہ ہو جاوے ورنہ یوں تو ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے چھری سے گوشت کاٹ کر کھایا۔اور یہ فعل اس لیء کیا کہ تا امت کو تکلیف نہ ہو۔جائز ضرورتوں پر اس طرح کھانا جائز ہے۔مگر بالاکل اس کا پابند ہوان اورتکلف کرنا اور کھانے کے دوسرے طریقوں کو حقیر جاننا منع ہے کیونکہ پھر آہستہ آہستہ انسان کو نوبت تتبع کی یہاں تک پہنچ جاتی ہے۔کہ وہ ان کی طرح طہارت کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ من تشابہ بقوم نھومنھم سے مراد یہی ہے کہزاماً ان باتوں کو نہ کرے ورنہ بعض وقت ایک جائز ضرورت کے لحاظ سے کر لینا منع نہیں ہے جیسے کہ بعض دفعہ کام کی کثرت ہوتی ہے اور بیٹھے لکھتے ہوتے ہیں تو کہدیا کرتے ہیں کہ کھانا میز پر لگا دو اور اس پر کھا لیا کرتے ہیں ارو صف پر بھی کھالیتے ہیں۔چارپائی پر بھی کھالیتے ہیں۔تو ایسی باتوں میں صرف گذارہ کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ تشبہ کے معنے اس حدیث میں یہی ہیں کہ اس لکیر کو لازم پکڑ لینا۔ورنہ ہمارے دین کی سادگی تو ایسی شئے ہے کہ جس پر دیگر اقوام نے رشک کھایا ہے اور خواہش کیا ہے۔کہ کاش ان کے مذہب میں ہوتی اور انگریزوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اکثر اصول ان لوگوں نے عرب سے لے کر استعمال کئے ہیں مگر اب رسم پرستی کی خاطر وہ مجبور ہیں۔ترک نہیں کر سکتے۔ داڑھی رکھنا انبیاء کا طریق ہے پھر عرب صاحب نے داڑھی کی نسبت دریافت کیا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ انسان کے دل کا خیال ہے بعض انگریز تو داڑھی اور مونچھ سب کچھ مندوا دیتے ہیں وہ