اسے خوبصورتی خیال کرتے ہیں اور ہمیں اس سے ایسی کراہت آتی ہے کہ سامنے ہو تو کھانا کھناے کو جی نہیں چاہتا۔داڑھی کا جو طریق انبیاء اور راستبازوں نے اختیار کیا ہے وہ بہت پسندیدہ ہے۔البتہ اگر بہت لمبی ہو جاوے تو کتوا دینی چاہیے۔ایک مشت رہے ۔خدا نے یہ ایک امتیاز مراد اور عورت کے درمیان رکھ دیا ہے۔ اُسترے کی مضرّت ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے عرض کی کہ حضور آج کل ایک کتاب بلیگ گائڈ چھپی ہے وہ کل ڈاکٹروں کے پاس روانہ کی گئی اس میں ایک ہدایت ہے کہ ان طاعون کے ایام میں داڑھی ہرگز نہ منڈوانی چاہیے۔کیونکہ اگر ذرا بھی زخم ہوا۔تو طاعونی مادہ اس پر بہت جلد اثر کرتا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ استروں سے بھی بعض وقت زہر اور آتشک کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔اس لئے ہمیشہ استرے کے استعمال کرنے میں بہت احتیاط لازم ہے اور اترے کا استعمال منہ پر تو بہت خطرناک ہے۔ہاں غیر مناسب بال جیسا کہ بعض رخسار پر ہوتے ہیں یا داڑھی کے زوائد وغیرہ کات دینے چاہئیں نہ کہ منڈوانے۔ پیشگوئی کی تفہیم میں احتیاط پھر حضرت اقدس نے عرب صاحب سے مخاسب ہو کر فرمایا :- رات کو جو آپ نے سوال کیا تھا وہ بے شک بہت ضروری تھا۔کیونکہ ایسے ملکوں میں جہاں لوگ بہت ناواقف ہیں سمجھانے کے لئے ضرور علم چاہئے۔ پھر اس مضمون کا متصر خلاصہ حضور نے اعادہ فرمایا کہ جو گذشتہ شب میں ہم درج کر چکے ہیں اور اس پر یہ ایزادی فرمائی کہ پیشگوئی کے بارے میں یہ خیال ہرگز نہ کریں کہ وہ ایسی کھلی کھلی ہوں کہ نام لے لے کر بتلایا جاوے ورنہ پھر یہی سوال آنحضرت ﷺ پر ہو سکتا ہے اور ویسے ہی ثبوت کی ضرورت آنحضرت ﷺ کے دعاوی پر آپڑتی ہے۔کیونکہ خدا نے توریت میں یہ تو ذکر کیا کہ آخری زمانہ میں ایک نبی ہوگا اور پھر یہ کہ تمہارے بھائیوں میں سے ہوگا ۔مگر یہ تشریح نہ کی کہ یہ