نفخ کرکے مجھے عیسیٰ بنایا۔مومنوں کی جو یہ دو مثالیں بیان ی ہیں۔وہ اس آیت ؎ٰ سے بھی معلوم ہوتی ہیں۔ (پھر اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا۔بارہا الحکم میں درج ہوا ہے۔آخر اس لطیفہ پر اس کو ختم کر دیا کہ) مریم صفات والے کے لئے ضرور ہے کہ وہ عیسویت کے رنگ میں تبدیل ہو جاوے۔اگر اس آیت میں صرف مریم کا لفظ ہوتا تو بہت سے افراد ہو سکتے تھے۔مگر خد اتعالیٰ نے احصان فرج اور نفخ روح کی قید لگا کر بتا دیا ہے کہ ایک ہی شخص ہوگا۔یہ ایک استعارہ تا۔جو کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔اس کے لئے یہی وقت مقدر تھا۔پھر عجیب تربات یہ ہے کہ مریم‘نفخ روح اور میرا نام عیسیٰ رکھنے کے الہاموں میں صرف نویا دس ماہ کا فاصلہ ہے جو کہ مدت حمل ہے۔ان تمام ترقیات کا سلسلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔کسی کو کیا خبر ہے کہ کس طرح ایک بیج زمین کے اندر کیا کیا بن کر آخر کار ایک پتہ بن جاتا ہے۔ ۲؎ ۷؍جنوری ۱۹۰۳ء؁ ظاہر وباطن میں اسلام کا نمونہ اختیار کرنا چاہئے حضرت اقدس حسب دستور سیر کے لئے تشریف لائے۔عرب صاحب نے انگریزی وضع