آج دو قسم کے شرک پیدا ہو چکے ہیں۔ جنھوں نے اسلام کو نابود کرنے کی بیحد سعی کی ہے۔ اور اگر خدا تعالیٰ کا فضل شامل نہ ہوتا ، تو قریب تھا کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور پسندیدہ دین کا نام و نشان مِٹ جاتا، مگر چونکہ اُس نے وعدہ کیا ہوا تھا انا نحن نزلنا الذکر و انالہ لحافظون ( الحجر : ۱۰) یہ وعدہ حفاظت چاہتا تھا کہ جب غارت گری کا موقعہ ہو، تو وُہ خبر لے۔ چوکیدار کا کام ہے کہ وُہ نقب دینے والوں کو پُوچھتے ہیں۔ اور دُوسرے جرائم والوں کو دیکھ کر اپنے منصبی فرائض عمل میں لاتے نین۔ اسی طرآج چونکہ فتن جمع ہو گئے تھے اور اسلامؔ کے قلعہ پر ہر قسم کے مخالف ہتھیار باندھ کر حملہ کرنے کو نیار ہو گئے تھے۔ اس لیے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ منہاجِ نبوّت قائم کرے۔ یہ مواد اسلامؔ کی مخالفت کے دراصل ایک عرصہ دراز سے پک رہے تھے اور آخر اب پھوٹ نکلے۔ جیسے ابتدا میں نطفہ ہوتا ہے اور پھر ایک عرصہ مقررہ کے بعد بچہ بن کرنکلتا ہے۔ اسی طرح پر اسلامؔ کی مخالفت کے بچّہ کا خُروج ہو چکا ہے اور اب وہ بالغ ہو کر پُورے جوش اورقوّت میںہے، اس لیے اس کو تباہ کرنے کے لیے خدا تعالیٰ نے آسمان سے ایک حَربہ نازل کیا اور اس مکرُوہ شرک کو جو اندرونی اور بیرونی طور پر پیدا ہو گیا تھا، دُور کرنے کے لیے اور پھر خدا تعالیٰ کی توحید اور جلال قائم کرنے کے واسطے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے اور میں بڑے دعوے اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ بے شک یہ خدا کی طرف سے ہے۔ اس نے اپنے ہاتھ سے اس کو قائم کیا ہے۔ جیسا کہ اس نے اپنی تائیدوں اور نصرتوں سے جو اس سلسلہ کے لیے اس نے ظاہر کی ہیں، دکھا دیا ہے۔
عادۃاﷲ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب بگاڑ حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے، تو اﷲ تعالیٰ اصلاح کے لیے کسی کو پیدا کر دیتا ہے۔ ظاہر نشان تو اس کے صاف ہیں۔ کہ صدی سے انیس برس گذر گئے اور اب تو بیسواں سال بھی شروع ہو گیا۔اب دانشمند کے لیے غور کا مقام ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھ گیا ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ کا ہر صدی کے سر پر مُجدّدکے مبعوث کرنے کا وعدہ الگ ہے۔ اور قرآن شریف اور اسلام کی حفاظت اور نصرت کا وعدہ الگ۔زمانہ بھی حضرت کے بعد مسیحؑ کی آمد کے زمانہ سے پوری مشبہت رکھتا ہے۔ جو نشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موعُود کے آنے کے مقرر کیے ہیں، وُہ پورے ہو چکے ہیں۔ تو پھر کیا اب تک بھی کوئی مصلح آسمان سے نہیں آیا؟آیا اور ضرور آیا ۔ اور خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق عین وقت پر آیا۔ مگر اس کی شناخت کرنے کے لیے ایمان کی آنکھ کی ضرورت ہے ۔٭
جماعت کے قیام کی غر ض
پھرعقلمند کو ماننے میں کیا تأمّلہو سکتا ہے۔ جب وہ ان تمام اُمور کو جو بیان کیے جاتے ہیں، یکجائی نظر سے دیکھے گا۔ اب میرا مدّعا اور