شریعت منسوخ ہو گئی ہوتی تو یہ کیوں فرماتے کہ فریسی اور فقیہ جو موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں وہ جو کہیں سو کرو اور جو وہ کریں وہ نہ کرو۔اس سے صاف معلوم ہوا کہ شریعت توریت کی بحال تھیا رو انجیل میں بذات خود کوئی شریعت نہیں تھی۔
مسیح موعود ہونے کا ذکر قرآ ن میں
عرب صاحب نے سوال کیا کہ مسیح موعود کے متعلق قرئں میں کہان کہاں ذکر ہے۔ فرمایا
سورۃ فاتحہ۔سورہ نور۔سورۃ تحریم وغیرہ میں۔سورۃ فاتحہ میں تو
اھدنا الصراط المستقیم (الفاتحہ : ۶)
سورۃ نور میں
وعداﷲ الذین امانو امنکم (النور : ۵۶)
اور سورہ تحریم میں جہاں مومنون کی مثالیں بیان کی ہیں۔ان میں فرمایا
ومریم ابنت عمران التی احصنت فرجھا (التحریم : ۱۳)
مقامِ مریمیّت
فرمایا :- اﷲ تعالیٰ نے مومنون کو اس میں دو قسم کی عورتوں سے مثال دی ہے۔ارول فرعون کی بیوی سے اورایک مریم سے۔پہلی مثال میں یہ بتایا ہے کہ ایک مومن اس قسم کے ہوتے ہیں جو ابھی اپنے جذبات نفس کے پنجے میں گرفتار ہوتے ہیں اور ان کی بڑی آرزو اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ خد اان کو اس سے نجات دے۔یہ مومن فرعون کی بیوی کی طرح ہوتے ہیں کہ وہ بنھی فرعون سے نجات چاہتی تھی مگر مجبور تھی۔لیکن جو مومن اپنے تئیں تقویٰ اور طہارت کے بڑے درجہ تک پہنچاتے ہیں اور احصانِ فرج کرتے ہیں توتعالیٰ ان میں عیسیٰ کی روح نفخ کر دیتا ہے۔نیکی کے یہ دو مرتبے ہیں جو مومن حاصل کر سکتا ہے مگر دوسرا بہت بڑھ کر ہے کہ اس میں نفخ روح ہو کر وہ عیسیٰ بن جاتا ہے یہ آیت صاف اشارہ کرتی ہے کہ اس امت میں کوئی شخص مریم صفت ہوگا کہ اس میں نفخ ہو کر عیسیٰ بنا دیا جائے گا۔اب کوئی عورت تو ایسی ہے نہیں اور نہ کسی عورت کے متعلق پیشگوئی ہے۔اس لئے صاف ظاہر ہے کہ اس سے یہی مراد ہے کہ اس امت میں ایک ایسا نسان ہوگا جو پہلے اپنے تقویٰ و طہارت اور احصان اور عفت کے لحاظ سے صفت مریمیت سے موصوف ہوگا اور پھر اس میں نفخ ہو کر صفات عیسوی پیدا ہوں گی۔اب اس کی کیفیت اور لطافت براہین احمدیہ سے معلوم ہوگی کہ پہلے میرا نام مریم رکھا ۔پھر اس میں روح صدق