اسرائیل چار سو سال کی غلامی کی وجہ سے فرعونیوں کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے جو ظالمانہ طبیعت رکھتے تھے۔اس لئے بہت سے مفاسد ان میں پیدا ہو گئے تھے اور چال چلن خراب ہو گیا تھا۔اس ظالمانہ عادات کی بیخکنی کے لئے عدل کے رنگ میں یہ تعلیم ان کو دی گئی تھی مگر انہوں نے اس کو الٹھا سمجھا ورنہ ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اخلاق کا وہ حصہ جو عفو کہلاتا ہے بالکل زائل کر دیا گیا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ بڑے سخت دل ہو گئے چنانچہ جب حضرت عیسیٰ ؑمبعوث ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ یہودیوں کی سخت دلی بہت بڑھی ہوئی ہے اور وہ کئی قسم کے فسق و فجور میں مبتلا تھے اس لئے انہوں نے آکر عفو کی تعلیم دی اور اخلاق کی تجدید کی۔یہ کہنا کہ انجیل ہی میں اخلاق بھرے ہوئے ہیں سخت غلطی ہے۔کیا پہلے نبیوں کی کتابیں جو ستر سے زیادہ ہیں’وہ سب اخلاقی تعلیم سے خالی ہیں؟ ہر گز نہیں۔مسیح نے کوئی نئی تعلیم نہیں دی۔اور نہ نئی شریعت پیش کی۔یہودی اب تک کہتے ہیں کہ عیسیٰ ؑنے جو کچھ لیا۔ہامرے ہی صحیفوں سے لیا ہے۔چنانچہ ایک یہودی نے ایک کتاب لکھی ہے اور اس نے بتایا ہے کہ کون کون سے فقرے عیسیٰ ؑنے ان کی کسی کتاب سے لئے ہیں۔
سچی تعلیم کی علامت
غرض سچی تعلیم کی یہ نشانی ہے کہ وہ انبیاء کی تعلیم سے مشابہ ہو۔ان کا اصول ایک ہی ہوتا ہے اور اختلاف تب ہوتا ہے کہ اصول میں ہو۔ورنہ فروع میں اگر کوئی اختلاف ہو تو وہ اختلاف نہیں کہلاتا اور اگر فروع میں اختلاف ہو بھی تو اس کی مثال ایسی ہے کہ گرمیوں میں اور کپڑا ہوتا ہے سردیوں میں اور۔فروعات میں تبدیلیاں ضرور ہوا کرتے ہیں۔ایس اہی مثلاً ایک زمانہ تھا کہ شراب جیسی خبیث چیز کو لوگ بے دھڑک پیتے تھے اور پھر وہ زمانہ آپ کا آگیا کہ اس کی بیخکنی کی جاوے۔حضرت دانیال کو کہا گیا کہ آپ شراب پئیں تا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو جاوے اور بادشان وقت کا حکم ہے کہ جس کا چہرہ سرخ نہ ہوگا۔وہ مارا جاوے گا اس پر آپ نے فرمایا کہ تم لوگ شراب پیو مگر میں ساگ پات کھاتا ہوں اور دیکھنا کہ کس کا چہرہ زیادہ سرخ ہوتا ہے۔چنانچہ جب آپ آئے تو سب سے زیادہ آپ کا چہرہ سرخ تھا۔
مسیح نے تورات کی شریعت بحال رکھی
پوچھا گیا کہ مسیحؑ نے اپنے شاگردوں کو شریعت کے ماننے کا کیوں حکم نہ دیا؟ فرمایا کہ
وہ خود شریعت کو مانتے تھے اور شاگردوں کو ماننے کے لئے فرمایا۔اگر ان کے وقت میں