تھا۔جہاں جس کو گنجائش ملی۔اس نے پائوں جما کر دعویٰ کردیا۔
مسیح ناصری شارح توریت اور مسیح موعود شارح قرآن ہے
پوچھا گیا کہ عیسائی لوگ تو توریت کو نہیں مانتے۔انجیل کو ہی مانتے ہیں۔فرمایا :-
انجیل میں ہرگز کوئی شریعت نہیں ہے بلکہ توریت کی شرح ہے اور عیسائی لوگ توریت کو الگ نہیں کرتے جیسے مسیح توریت کی شرح بیان کرتے تھے۔اسی طرح ہم بھی قرآن شریف کیشرح بیان کرتے ہیں۔جیسا کہ وہ مسیحؑ۔موسیٰ ؑسے چودہ سو برس بعد آئے تھے۔اسی طرح ہم بھی پیغمبر خدا ﷺ کے بعد چودھویں صدی میں آئے ہیں۔
مغضوب اور ضال
ایک شخص نے سوال کیا۔بعض مخالف کہتے ہیں کہ ہم بھی تو
اھدناالصراط المستقیم (الفاتحہ : ۶)
کہتے ہیں ہم کو یہودی اور مغضوب کیوں کہا جاتا ہے؟ فرمایا کہ
یہودی بھی تو ہدایت ابتک طلب کر رہے ہیں اور
اھدنا الصراط المستقیم
مانگ رہے ہیں اور توریت پڑھتے ہیں مگر گمراہ کیوں ہیں؟
خلیفہ کے معنے
عرب صاحب نے خلیفہ کے معنے دریافت کئے ۔فرمایا :-
خلیفہ کا معنے جانشین کے ہیں جو تجدید دین کرے۔نبیوں کے زمانہ کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں۔انہیں خلیفہ کہتے ہیں۔
بنی اسرائیل کے انبیاء موسوی شریعت کے تابع تھے
مثلاً گذشتہ انبیاء میں جو خلیفے ہوئے وہ وہ تھے جو مقاصد توریت کے کھول کر بیان کیا کرتے تھے ورنہ تعلیم سب کی ایک ہی تھی۔یہود کو جو توریت میں یہ تعلیم دی تھی کہ دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔مگر توریت کا اس عدل سے وہ مطلب نہ تھا جو یہودی لوگ اپنی جھوٹی روایتوں اور حدیثوں کی بناء پر اصل اخلاق کو دور کرکے ظاہری شریعت کے پیچھے لگ گئے کہ اگر ظاہر شریعت پر عمل نہ کریں گے تو گنہگار ٹھہریں گے اور عفو گویا بالکل نہ کرنا چاہیے۔حالانکہ اس سے خدا تعالیٰ پر حرف آتا ہے۔کہ وہ کیوں عفو کی عادت ترک کر بیٹھا۔ہاں یہ سچ ہے کہ بن