سب فرقوں کا رد اس میں موجود ہے۔غرض قرآن مجید ایک اکمل اور اتم کتاب ہے۔اﷲ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ خلقت میں علوم حاصل کرنے کے دماغ موجود ہو گئے ہیں تو اس نے قرآن جیسی کتاب بھیج دی۔
موسوی سلسلہ وار محمدی سلسلہ میں مطابقت
غرض یہ سلسلہ موسوی سلسلہ سے کسی طرح کم نہ رہا۔رسول اﷲ ﷺ نے یہاں تک تو مماثلت اور مطابقت میں فرمایا کہ بدی کا حصہ بھی تم کو ویسے ہی ملے گا جیسے یہود کو ملا اور اس سلسلہ کی نسبت بار بار ذکر ہوا کہ آخر تک اس کی عظمت قائم رکھے گا۔سورۃ فاتحہ میں بھی اس کا ذکر ہے جبکہ
غیر المغضوب علیھم ولاالضالین (الفاتحہ : ۷)
فرمایا :-
مغضوب سے مراد یہودی ہیں۔
اب قابل غور یہ امر ہے کہ یہودی کیسے مغضوب ہوئے۔انہوں نے پیغمبروں کو نہ مانا اور حضرت عیسیٰ ؑ کا انکار کیا توضرور تھا کہ اس امت میں بھی کوئی زمانہ ایسا ہوتا اور ایک مسیح آتا جس سے یہ لوگ انکار کرتے اور وہ مماثلت پوری ہوتی ورنہ کوئی ہم کو بتائے کہ اگر اسلام پر کوئی ایسا زمانہ آنے اولا ہی نہ تھا اور نہ کوئی مسیح آنا تھا پھر اس دعا ھاتحہ کی تعلیم کا کیا فائدہ تھا۔
قرآن شریف کی مختلف آیات کے جبع کرنے سے اور پھر ان پر یکجائی نظر کرنے سے صاف پتہ لگتا ہے کہ آنے والا مسیح ضرور اس امت میں سے ہوگا اور حدیث بھی اس کی شرح کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ اس امت میں سے ہوگا۔
غرض اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان سلسلوں میںبالکل مطابقت ہے۔اور محمدی سلسلہ میں آنے والا خاتم الخلفاء مسیح کے رنگ پر ہوگا۔حدیثوں میں بھی یہی آیا ہے کہ امامکم منکم یعنی وہ امام تم ہی میں سے ہوگا۔
مسیح موعود کس قوم سے ہوگا؟
سوال ہوا کہ مسیح کس قوم سے ہوا؟
فرمایا :- مہدی کی بابت تو مختلف روایات ہیں۔مگر مسیح کی بابت نہیں لکھا کہ وہ کس قوم سے ہوگا اور یہ لطف کی بات ہے کہ چونکہ کسی قوم کا ذکر نہیں ہے اور مسلمانوں کا خیال تھا کہ وہ اوپر سے آنے والا ہے۔اس لئے اس دعویٰ میں آج تک کسی کو جراات نہیں ہوئی کہ افتراء سے کام لیتا۔مہدی کاذب ہونے کے دعوے جو بہت لوگوں نے کئے اس کی وجہ یہی تھی کہ اس کی قوم کا ذکر