ہوتا کہ دونو سلسلوں میں باہم تطابق اور عین موافقت ہوتی ۔اسماعیل ؑ کی اولاد میں اﷲ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان نبی مبعوث فرمایا۔ جس کی امت کو کنتم خیر امۃ اخرجت لناس (آل عمران : ۱۱۱) کہا کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو۔کیونکہ وہ لوگ جن کو شریعت قصہ کے رنگ میں ملی تھی وہ دماغی علوم کی کتاب و شریعت کے ماننے والوں کے کب برابر ہو سکتے ہیں۔پہلے صرف قصص پر راضی ہو گئے۔اور ان کے دماغ اس قابل نہ تھے کہ حقائق و معارف کو سمجھ سکتے۔مگر اس امت کے دماغ اعلیٰ درجہ کے تھے ا سلئے شریعتاور کتاب علوم کا خزانہ ہے جو علوم قرآن مجید لے کر آیا ہے وہ دنیا کی کسی کتاب میں پائے نہیں جاتے۔اور جیسے شریعت کے نزول کے وقت وہ اعلیٰ درجہ کے حقائق و معارف سے لبریز تھی ویسے ہی ضروری تھا کہ ترقی علوم و فنون اسی زمانہ میں ہوتا۔بلکہ کمال انسانیت بھی اسی میں پورا ہوا۔ قرآن شریف حقیقی علوم کا جامع ہے اس مقام پر عرب صاحب نے سوال کیا کہ آنحضرت ﷺ سے پیشتر بھی یونان وغیرہ میں علوم کا چرچا تھا۔ فرمایا :- علوم سے مراد دنیوی علوم نہیں ہے۔اور نہ ہیں۔ان ارضی علوم سے کچھ تعلق نہیں۔علوم حقیقی وہی ہوتے ہیں جو انبیاء لے کر آتے ہیں۔اور ارضی اور سفلی علوم جو دنیا کے لوگ سمجھتے ہیں۔جیسے تار‘ریل‘غبارہ یا کلوں کی ایجاد وغیرہ یہ کھیلیں ہیں اور ارضی چیزیں ہیں جو جونہی انسان مرجاتا ہے اس کے ساتھ ہی فنا ہو جاتی ہیں مگر وہ علوم جو انبیاء لے کر آتے ہیں وہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں ان کو کبھی فنا نہیں۔ان علوم سے مراد خدا کے علوم ہیں (پھر اسی سلسلہ میںاصل مطلب کی طرف رجوع کرکے فرمایا) یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف جو علوم لے کر آیا ہے وہ دنیا کی کسی اور کتاب میںپائے نہیں جاتے ہیں۔توریت میں کسی علوم کا ذکر نہیں اور انجیل میں نشان تک بھی نہیں پایا جاتا۔قرآن کریم کی عظمت کے بڑے بڑے دلائل میں سے یہ بیھ ہے کہ اس میں عظیم السان علوم ہیں جو توریت و انجیل میں تلاش کرنے ہی عبث ہیں اور ایک چھوٹے اور بڑے درجہ کا آدمی اپنے اپنے فہم کے موافق ان سے حصہ لے سکتا ہے۔توریت کو دیکھو کہ ہستی باری تعالیٰ اور قیامت کے کیسے دلائل بھرے ہوئے ہیں۔اور پھر عقلی اور نقلی دونو طرح کے ثبوت ہیں۔قرون اولیٰ میں صرف نقل ہی نقل تھی۔پھر یہود۔نصاریٰ۔آریہ۔برہمو۔نیچری غرض