شیشہ کا دوسرے میں انعکاس ہوتا ہے۔ خاتم النبّیین صلی اﷲ علیہ اسلم کی عظمت اور اس تقابل سلسلہ سے یہ بھی بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ آخری سلسلہ کا آخری موعود کس شان کا ہوگا کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ آخر آنے والا عظیم الشان ہوتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبین ٹھہرے۔اگر یہ قاعدہ اور سنت نہ ہوتی۔تو پھر معاذ اﷲ آنحضرت ﷺ کی کوئی عزت اور عظمت باقی انبیاء سابقین پر نہ ہوتی لیکن چونکہ اﷲ تعالیٰ کی مصلحت دنیا میں عظیم الشان اصلاح چاہتی تھی اس لئے مناسب یہی تھا کہ ان سب سے پڑھ کر آپؐ کی عظمت دکھاوے تا کہ آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہو۔دنیاوی حکام بھی جب ایسی مصلحت رکھ لیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس مصلحت کو مد نظر نہ رکھتا۔کبھی حکام دنیا پسند نہیں کرتے کہ آخر میں کسی نالائق کو بھیج دیں اور کہہ دیں کہ گویہ نالائق ہے مگر اس کی بات مان لو۔اب ایک شخص جو کل دنیا کی اصلاح کے لئے آنے والا تھا کب ہو سکتا تھا کہ وہ ایک معمولی انسان ہوتا۔جس قدر انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ سے پہلے آئے وہ سب ایک خاص خاص قوم کے لئے آئے تھے۔اس لئے کہ ان کی شریعت مختص القوم اور مختص الزمان تھی ۔مگر ہمارے نبی وہ عظیم السان نبی ہیں جن کے لئے حکم ہوا کہ ما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین (الانبیاء : ۱۰۸) اور قل یا یھا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا (الاعراف : ۱۵۹) اس لئے جس قدر عظمتیں آپ کی بیان ہوئی ہیں۔مصلحت الٰہی کا بھی یہی تقاضا تھا۔کیونکہ جس پر ختم نبوت ہونا تھا۔اگر وہ اپنے کمالات میں کبی رکھتا توپھر وہی کمی آئندہ امت میں رہتی ۔کیونکہ جس قدر کمالات اﷲ تعالیٰ کسی نبی میں پیدا کرتا ہے اسی قدر اس کی امت میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور جس قدر کمزور تعلیم وہ لاتا ہے اتنا ہی ضعف اس کی امت میں نمودار ہو جاتا ہے چنانچہ یہی وجہ تھی کہ جس عظمت اور شان کا آنحضرت ﷺکو پیدا کیا۔اسی عظمت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ تقابل میں بھی وہی عظمت دکھاتا۔اور ہم ظاہر طور پر دیکھتے ہیں کہ دونوں تعلیموں میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے جیسے کہ قرآن شریف حقائق اور معارف سے بھرا ہوا ہے توریت اور انجیل بالکل ان سے خالی ہے۔ان کی کل تعلیم قصص کے رنگ میں ہے اور قرآن شریف علوم کا خزانہ ہے۔ان دونو سلسلوں کا اقتضاء اس وجہ سے بھی تھا کہ چونکہ اسحاق ؑاور اسماعیل ؑدونو بھائی تھے اور دونو میں برکات کی تقسیم مساوی تھیں۔تصفیہ تقسیم تب ہی