دربارِ شام ۲؎ عربی تصانیف کی اہمیت عربی تصانیف کے متعلق اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ یہ سلسلہ نہ ہوتا تو یہ سب مولوی ہماری جماعت یو نظر استخفاف سے دیکھتے اور کہتے کہ یہ لوگ جاہل ہیں۔مگر اب خود ہی بولنے کے لائق نہیں رہے۔ اسے سلسلہ کلام میں ابو سعید عرب صاحب نے عرض کیا کہ اگر چہ میں نے حضور کی تصنیفات کا مطالعہ نہیں کیا۔مگر میرا ایمان ہیکہ حضور بالکل سچے ہیں اور مسیح اور مہدی کا دعویٰ حق ہے۔مگر دوسرے لوگوں سے کلام کرنے کے لئے میں چاہتا ہوں کہ حضور کی زبان مبارک سے مسیح موعود ہونے کا ثبوت سنوں۔ حضرت اقدس نے اس کے جواب میں جو کچھ فرمایا ۔ہم اس کو اختصار کے طور پر لکھیں گے کیونکہ اس مضمون کے متعلق بسط کے ساتھ کلمات طیبات میں بھی ایک مضمون چھپ رہا ہے۔بہرحال آپ نے فرمایا :- مسیح موعود ہونے کا ثبوت قرآن پر تدبر سے نظر کرنے والے کو معلوم ہوگ اکہ دوسلسلوں کا مساوی ذکر ہے اول وہ سلسلہ جو موسیٰ ؑسے شروع ہو کر مسیح ؑپر ختم ہوتا ہے۔دوسرا جو آنحضرت ﷺسے شروع ہوتا ہے یہ اس شخص پر ختم ہونا چاہیے جو مثیل مسیح ہو۔کیونکہ آنحضرت ﷺ مثیل موسیٰ ہیں۔ انا ارسلنا الیکم رسولا شاھدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا (المزمل: ۱۶) اور پھر سورہ نور میں وعدہ استخلاف فرمایا کہ جس طرخ پر موسوی سلسلہ ہو گذرا ہے۔اسی طرح پر محمدی سلسلہ بھی ہوگا تا کہ دونو سلسلوں میں بموجب آیات قرآنی باہم مطابقت اور موافقت تامہ ہو۔چنانچہ جبکہ موسوی سلسلہ آخر عیسیٰ ؑپر ختم ہوا۔ضروری تھا کہ محمدی سلسلہ کا خاتم بھی عیسیٰ موعود ہوتا ان دونو سلسلوں کا باہم تقابل مرایا متقابلہ کی طرح ہے یعنی جب دوشیشے ایک دوسرے کے بالمقابل رکھے جاتے ہیں تو ایک