64
نوٹ ۔ صفحات درست کریں۔
ہی کو نہیں سمجھ سکتے اور نہیں جانتے کہ وہ سرور کیا ہو تا ہے ۔مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ یہ لو گ جو اس قسم کی بد عتیں مسلمان کہلاکر نکالتے ہیں ۔ اگر خوشی اور لذّت سامان اسی میں تھا تو چائیے تھاکے پیغمبر خدا ﷺ جو عارف ترین اور اکمل ترین انسان دنیامیں تھے ، وہ بھی اس قسم کوئی تعلیم دیتے یااپنے اوراعمال سے ہی کچھ کر دکھاتے ۔ میں ان مخالفوں سے بڑے بڑے مشائخ اور گدّی نشین اور صاحبِ سلسلہ ہیں۔پوچھتا ہوںکہ کیاپیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درودووظائف اور چلہ کشیاں،اُلٹے سیدھے لٹکنا بھول گئے اگر معرفت اور حق شناسی کا یہی ذریعۂ اصل تھے۔مجھے بہت ہی تعجب آتا ہے کہ ایک طرف قرآن شر یف میں یہ پڑھتے ہیں۔اَلیوَ ْمَ َاَکْمَلْتْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ(المائدہ:۴)
اوردوسری طرف اپنی ایجادوں اور بدعتوں سے اس تکمیل کو توڑ کر ناقص ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
ایک طرف توظالم طبع لوگ مجھ پرافتراکرتے کہ گویامیںایسی مستقل نبو ت کا دعویٰ کرتاہوںجو صاحب شریعت نبی ﷺکے سوا الگ نبوت ہے ، مگر دُوسری طرف یہ اپنے اعمال کی طرف ذرا بھی توجہ نہیںکرتے کہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ تو خودکر رہے ہیں۔جب خلافِ رسول اور خلافِ قرآن ایک نئی شریعت قائم کرتے ہيں اب اگر کسی دل میں انصاف اور خداکا خوف ہے تو کوئی مجھے بتائے کہ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم اور عمل پر کچھ اضافہ یا کم کر تے ہیں جب کہ اسی قرآن شریف کے بموجب ہم تعلیم دیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اپنا امام اور حکم مانتے ہیںکیا ارّہ کا ذکر میں نے بتایا ہے اور پاس انفاس اور نفی واثبات کے ذکر اور کیا کیا میں سکھاتا ہوں پھر جھوٹی اور مستقل نبوت کا دعوی تو یہ لوگ خود کرتے ہیں اور الزام مجھے دیتے ہیں۔
ختم نبوت کی حقیقت ۔ یقینا یاد رکھو کہ کوئی شخص سچا مسلمان نہیں ہو سکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع نہیں بن سکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین نہ کر لے۔جب تک ان محدثات سے الگ نہیں ہوتا اور اپنے قول اور فعل سے آپ کو خاتم النبیین نہیں مانتا کچھ نہیں۔ سعدی نے کی اچھا کہا ہے۔
بزہد و ورع کوش و صدق و صفا
و لیکن میفزائے بر مصطفی
ہمارا مدعا جس کے لئے خدا تعالی نے ہمارے دل میں جوش ڈالا ہے یہی ہے کہ صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قائم کی جائے جو ابدالآباد کے لئے خدا تعالیٰ نے قائم کی ہے اور تمام جھوٹی نبوتوں کو پاش پاش کر دیا جائے جوا ن لوگوں نے اپنے بدعتوں کے ذریعے قائم کی ہیں ان ساری گدیوں کو دیکھ لو اور عملی طور پر مشاہدہ کرو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ہم ایمان لاتے ہیں یا وہ ؟
65
یہ ظلم اور شرارت کی بات ہے کہ ختم نبوت سے خدا تعالیٰ کا اتنا ہی منشاء قرار دیا جائے کہ منہ سے ہی خاتم النبیین مانو اور کرتوتیں وہی کرو جو تم خود پسند کرو اور اپنی الگ شریعت بنا لو۔بغدادی نماز ، معکوس نماز وغیرہ ایجاد کی ہوئی ہیں کیا قرآن شریف یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں بھی اس کا کہیں پتا لگتا ہے اور ایسا ہی یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئاً للہ کہنا اس کا ثبوت بھی کہیں قرآن شریف سے ملتا ہے آنحضرت کے وقت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کو وجود بھی نہ تھا۔پھر یہ کس نے بتایا تھا ۔شرم کرو۔یا شریعت اسلام کی پابندی اور التز ا م اسی کا نا م ہے ؟اب خو د ہی فیصلہ کرو کہ کیا ان باتوں کو ما ن کر ایسے عمل رکھ کر تم اس قابل ہوکہ مجھے الزام دو کہ میںنے خاتم النبین کی مہر کو توڑا ہے ۔اصل اور سچی با ت یہی ہے کہ اگر تم اپنی مساجد میںبدعا ت کو دخل نہ دیتے اور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی نبو ت پر ایما ن لا کر آ پکے طر ز عمل اور نقش قدم کو اپنا ا ما م بنا کر چلتے تو پھر میر ے آ نے کی ہی کیا ضرو ر ت ہو تی ۔تمھار ی ان بد عتو ں اور نئے نبو تو ں نے ہی اللہ تعالیٰ کی غیر ت کو تحریک دی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں ایک شخص کو مبعوث کرے جو ان جھوٹی نبّوتوں کے بُت کو توڑ کر نیست و نابُودکرے۔ پس اسی کام کے لیے خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجاہے۔ مَیں نے سنا ہے کہ غوث علی پانی پتی کے ہاں شاکت مت کا ایک منتر رکھا ہوا ہے، جس کا وظیفہ کیا جاتا ہے اور ان گدّی نشینوں کو سجدہ کرنا یااُن کے مکانات کا طواف کرنا، یہ تو بالکل معمولی اور عام باتیں ہیں۔
غرض اﷲ تعالی۱ نے اس جماعت کو اسی لیے قائم کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور عزّت کو دوبارہ قائم کریں۔ایک شخص جو کسی کا عاشق کہلاتا ہے۔ اگر اس جیسے ہزاروں اور بھی ہوں تو اس کے عشق و محبّت کی خصُوصیّت کیا رہی۔ تو پھر اگر یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق میں فنا نیں۔ جیسا کہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔ تو یہ کیا بات ہے کہ ہزاروں خانقا ہوں اور مزاروں کی پرستش کرتے ہیں۔ مدینہ طیبّہ تو جاتے نہیں مگر اجمیرؔ اور دوسری خانقا ہوں پر ننگے سر اور ننگے پائوں جاتے نیں۔ پاک پٹن کی کھڑ کی میں سے گذر جانا ہی نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ کسی نے کوئی جھنڈا کھڑا کر رکھا ہے۔ کسی نے کوئی اور صورت اختیار کر رکھی ہے۔ ان لوگوں کے عُرسوں اور میلوں کو دیکھ کر ایک سچّے مسلمان کا دل کانپ جاتا ہے کہ یہ انھوں ہے کیا بنا رکھاہے۔ اگرخدا تعالیٰ کو اسلامؔ کی غیرت نہ ہوتی اور ان الدین عند اﷲالاسلام (آلِ عمران: ۲۰) خدا کا کلام نہ ہوتا اور اس نے نہ فرمایا ہوتا۔ انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون (الحجر : ۱۰) تو بیشک آج وہ حالت اسلام کی ہو گئی تھی کہ اس کے مٹنے میں کوئی بھی شبہ نہیں ہو سکتا تھا۔ مگر اﷲ تعالیٰ کی غیرت نے جوش مارا اور اس کی رحمت اور وعدہ حفاظت نے تقاضا کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کو پھر نازل کرے اور اس زمانہ میں آپؐ کی نبوّت کو نئے سرے سے زندہ کر کے دکھا دے؛ چنانچہ اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا اور مجھے مامُور اور مَہدی بنا کر بھیجا۔