طاعون کے بعد میرے الہام میں ہے۔ یا تی علی جھنم زمان لیس فیھا احد یہ طاعون کی نسبت ہے۔اسے بھی جہنم ہی کہا گیا ہے حالانکہ جہنم تو قیامت کو ہونا ہے۔ اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کارروائی ہولے گی تو پھر طاعون ایک دم چپ ہو کر سو جائے گی۔پھر اس کے بعد یہ بھی فرمایا ہے۔ یغاث الناس ویعصرون پھر بارشیں ہوں گی۔کشادگی ہوگی۔فصلیں خوب پکیں گی۔موتوں سے لوگ بچیں گے۔پھر اس وقت لوگوں کا دعائیں کرنا کہ یہ طاعون دور ہو۔بے فائدہ ہے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جب ایک شخص پہر رات رہے اٹھ کر دعا شروع کر دے کہ بہت جلد ابھی دن نکل آوے تو خواہ وہ کچھ ہی کرے مگر دن تو اپنے وقت پر ہی چڑھے گا۔ جائز امور میں اعتدال نیکی کے ذکر پر فرمایا کہ ’’نیکی کی جڑ یہ بھی ہے کہ دنیا کی لذات وار شہوات جو کہ جائز ہیں ان کو بھی حد اعتدال سے زیادہ نہ لے جیسا کہ کھانا پینا اﷲ تعالیٰ نے حرام تو نہیں کیا مگر اب اسی کھانے پینے کو ایک شخص نے رات دن کا شغل بنا لیا ہے۔اس کا نام دین پر بڑھاتا ہے ورنہ یہ لذات دینا کی اس واسطے ہیں کہ اس کے ذریعہ نفس کا گھوڑا جو کہ دنیا کی راہ میں ہے کمزور نہ ہو۔اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ یکہ والے جب لمبا سفر کرتے ہیں تو ساتھ یا آٹھ کوس کے بعد وہ گھوڑے کی کمزوری کو محسوس کرکے اسے دم دلا دیتے ہیں۔اور نہاری وغیرہ کھلاتے ہیں۔تا کہ اس کی پچھلی تھکان دور ہو جاوے تو انبیاء ؑنے جو حظ دنیا کا لیا ہے وہ اسی طرح ہے کیونکہ ایک بڑا کام دنیا کی اصلاح کا ان کے سپرد تھا اگر خدا کا فضل ان کی دستگیری نہ کرتا تو ہلاک ہو جاتے۔اسی واسطے رسول کریم ﷺ کسی وقت حضرت عائشہؓ کے زانو پر ہاتھ مار کر فرماتے کہ اے عائشہ راحت پہنچا۔مگر انبیاء کا یہ دستور نہ تھا کہ اس مٰن ہی منہمک ہو جاتے۔انہماک بے شک ایک زہر ہے ایک بدقماش آدمی جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے کھاتا ہے۔اسی طرح اگر ایک صالح بھی کرے تو خدا کی راہیں اس پر انہیں کھلتیں۔جو خدا کے لئے قدم اٹھاتا ہے۔خدا کو ضرور اس کا پاس ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اعدلو اھو اقرب للتقوی (المائدۃ : ۹) تنعم اور