کھانے پینے میں بھی اعتدال کرنے کا نام تقویٰ ہے۔صرف یہی گناہ نہیں ہے کہ انسان زنا نہ کرے۔چوری نہ کرے بلکہ جائز امور میں حد اعتدال سے نہ بڑھے۔
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا اُسوۂ حَسنہ
ایک دفعہ حضرت عمرؓ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے۔آپ اندر ایک حجرہ میں تھے۔حضرت عمرؓ نے اجازت چاہی۔آپ نے اجازت دے دی۔حضرت عمرؓ نے آکر دیکھا کہ صف کھجور کے پتوں کی آپ نے بچائی ہوئی ہے اور اس پر لیٹنے کی وجہ سے پیٹھ پر پتوں کے داغ لگے ہوئے ہیں’گھر کی جائداد کی طرف حضرت عمرؓ نے نظر کی تو دیکھا کہ ایک گوشہ میں تلوار لٹکی ہوئی ہے۔یہ دیکھ کر ان کے آنسو جاری ہوگئے۔آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ اے عمر تو کیوں رویا؟ عرض کی کہ خیال آتا ہے کہ قیصرو کسریٰ جو کہ کافر ہیں ان کے لئے کس قدر تنعم اور آپ کے لئے کچھ بھی نہیں۔فرمایا۔میرے لئے دنیا کا اسی قدر حصہ کافی ہے کہ جس میں حرکت کر سکوں۔میری مثال یہ ہے کہ جیسے ایک مسافر سخت گرمی کے دنوں میں اونٹ پر جا رہا ہو اور جب سورج کی تپش سے بہت تنگ آوے تو ایک درخت کو دیکھ کر اس کے نیچے ذرا آرام کر لیوے اور جونہی کہ ذرا پسینہ خشک ہو پھر اٹھ کر چل پڑے ۔تو یہ اسوۂ حسنہ ہے جو کہ اسلام کو دیا گیا ہے۔دنیا کو اختیار کرنا بھی گناہ ہے اور مومن کی زندگی اضطراب کے ساتھ گذرتی ہے۔
پھر ہماری دو آنکھیں ہیں اور کیا کچھ دیکھ رہی ہیں اور کوئی فولاد وغیرہ کی بنی ہوئی نہیں ہیں۔ذرا بینائی جاتی رہے تو پھر ہستی کا اندازہ ہو جاتاہے اور جب اندھا ہو توپھر موت ہی ہے۔تو دنیا کی زندگی کا بھی یہی حساب ہے۔
دنیوی زندگی ناقابل اطمینان ہے
مومن کو اس زندگی پر ہرگز مطمئن نہ ہونا چاہیے۔اتنی بلائیں اس زندگی میں ہیں کہ شمار نہیں۔ایک بیماری ہوتی ہے کہ انسان کے پاخانہ کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور منہ کے راستہ پاخانہ آتا ہے اور اس کا نام ایلاوس ہے اور پھر اسی طرح گردہ اور مثانہ کی بیماریاں ہیں کہ رنگا رنگ کے سرخ‘ سبز ارو سیاہ پتھر بن جاتے ہیں اور ان کا کوئی خاص سبب بھی کیا بیان ہو سکتا ہے بلکہ امراء لوگ جو کہ عمرہ غذا اور نفیس پانی استعمال کرتے ہیں انہین کو ایسی امراض ہوتی ہیں۔اگر دو شخص ایک ہی جگہ رہتے ہوں۔ایک ہی قسم کی ان کی خوردونوش ہو۔پھر ایک ان میں سے ایسے عوارض میں مبتلا ہو جاتا ہے دوسرا نہیں ہوتا۔اس لئے طب کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ظنی علم ہے۔علل