کو علم ہے کہ اس سے ذلت ہوگی۔خواری ہوگی وہ ایسے کام کرتے شرماتے ہیں کیونکہ ان کی عظمت میں فرق آتا ہے۔اس لئے ڈاکہ والوں کا یہ بھی علاج ہے کہ ان کی تعظیم کی جاوے اور ان کو بڑا آدمی بنا دیا جاوے۔تا کہ ھر ان کو ڈاکہ مارتا شرم آوے۔؎ٰ
۶؍جنوری ۱۹۰۳ء
(بوقت سیر)
موت
اول طاعون کا ذکر ہوتا رہا پھر موت کی حالت کا ذکر آیا ۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ بیھ ایک وقت ہے جو انسان پر آتا ہے مگر یہاں آکر سب علوم ختم ہو جاتے ہیں اور کوئی کچھ نہیں بتلاتا۔
بعض احباب اپنے اپنے خواب سناتے رہے اور حضرت اقدس تعبیر فرماتے رہے چند ایک ان میں سے واقفیت عام کے لئے درج کی جاتی ہیں۔
تعبیر الرئویا
خواب میں ختنہ کرنا :-
تقویٰ کا طریق اختیار کرنا ہے۔اس سے شہوات کا کاٹنا ہے۔
قیامت کی خبر سننا :-
اس سے مراد ہے کہ دینداروں کی فتح ہوگی اور دشمنوں کو ذلت۔کیونکہ قیامت کو بھی یہی ہونا ہے۔
قرآن شریف میں ہے کہ
فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر (الشوریٰ : ۸)
یہ اسی دن ہوگا دنیا کی رنگا رنگ کی وبائیں بھی قیامت ہی ہیں۔