مغفرتِ الٰہی
ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کی کہ جب تک حرام خوری وغیرہ نہ چھوڑے تب تک نماز کیا لذت دے اور کیسے پاک کرے۔حضرت اقدس نے فرمایا :-
ان الحسنت یذھبن السیات (ھود : ۱۱۵)
بھلا جو اول ہی پاک ہو کر آیا اسے پھر نماز کیا پاک کرے گی۔
حدیث میں ہے کہ تم سب مردہ ہو مگر جسے خدا زندہ کرے۔تم سب بھوکے ہو مگر جسے خدا کھلاوے۔الح۔ایک طبیب کے پاس اگر انسان اول ہی صاف ستھرا اور مرض سے اچھا ہو کر آوے تو اس نے طبابت کیا کرنی ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی غفوریت کیسے کام کرے۔بندوں نے گناہ کرنے ہی ہیں تو اس نے بخشنے ہی ہیں۔ہاں ایک بات ضرور ہے کہ وہ گناہ نہ کریں جس میں سرکشی ہو ورنہ دوسرے گناہ جو انسان سے سرزد ہوتے ہیں۔اگر ان سے بار بار خدا سے بذریعہ دعا تزلیہ چاہے گا تو اسے قوت ملے گی۔بلاقوت اﷲ تعالیٰ کے ہرگز ممکن نہیں ہے کہ اس کاتزکیہ نفس ہو اور اگر ایسی عادت رکھے کہ جو کچھ نفس نے چاہا اس وقت کر لیا تواسے کوئی قوت نہیں ملے گی۔جب ان جوشوں کا مقابلہ کرے اور گناہ کی طاقت ہوتے ہوئے پھر گناہ نہ کرے ورنہ اگر وہ اس وقت گناہ سے باز آتا ہے جبکہ خد اتعالیٰ نے طاقتیں چھین لی ہیں تو اسے کای ثواب ہوگا۔مثلاً آنکھوں میں بینائی نہ رہے تو اس وقت کہے کہ اب میں غیر عورتوں کو نہیں دیکھتا تو یہ کیا بزرگی ہوئی۔بزرگی تو اس میں تھی کہ پیشتر اس کے کہ خد ااپنی دی ہوئی امانتیں واپس لیتا وہ اس کے بے محل استعمال سے باز رہتا۔
معرفت کے بغیر گناہ نہیں چھوٹ سکتا
اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی معیت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کی ہی معیت ہو تو تبدیلی ہوتی ہے اور پھر اس کی خواہشیں اور اور جگہ لگ جاتی ہیں ارو خدا کی نافرمانی اسے ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے موت۔بالکل ایک معصوم بچہ کی طرح ہو جاتا ہے۔اس لئے جہاں تک ہو سکے کوشش کریں کہ دقیق در دقیق پر ہیز گار ہو جاوے۔جب نماز میں کوئی خطرہ پیش آوے۔اس وقت سلسلہ دعا کا شروع کردے یہ مشکلات اس وقت تک ہیں کہ جب تک نمونہ قدرت الٰہی کا نہیں دیکھتا۔کبھی دہریہ ہو جاتا ہے کبھی کچھ۔بار بار ٹھوکریں کھاتا ہے۔جب تک خدا تعالیٰ کی معرفت نہ ہو گناہ نہیں چھوٹ سکتا۔دیکھو جو لوگ جاہل ہیں۔ڈاکہ مارتے ہیں۔چوریاں کرتے ہیں۔لیکن جن