محسوس نہیں ہوتی۔حالت استغنا میں انسان کو خد ایاد نہیں آیا کرتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری طرف وہ متوجہ ہوتا ہے کہ جس کے بازو توٹ جاتے ہیں۔اب جو شخص غفلت سے زندگی بسر کرتا ہے۔اسے خد اکی طرف توجہ کب نصیب ہوتی ہے۔انسان کا رشتہ خدا تعالیٰ کے ساتھ عاجزی اور اضطراب کے ساتھ ہے لیکن جو عقلمند ہے وہ اس رشتہ کو اس طرح سے قائم رکھتا ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ میرا باپ دادا کہاں ہے اور اس قدر مخلوق کو ہر روز مرتا دیکھ کر وہ انسان کی فانی حالت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کی برکت سے اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ میں بھی فانی ہوں اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ جہان چھوڑ دیا جائے گا۔اور اگر وہ اس میں زیادہ مبتلا ہے تو اُسے اِسے چھوڑ نے کے وقت حسرت بھی زیادہ ہوگی اور یہ حسرت ایسی ہے کہ خواہ آخرت پر ایمان نہ بھی ہو۔تب بھی اس کا اثر ضرور ہوتا ہے اور اس سے امن اس وقت ملتا ہے کہ جب فانی خوش حالی نہ ہو بلکہ سچی خوش حالی ہو۔بعض آدمیوں کو بیماریوں سے بعض کو دوسری تکالیف سے خدا کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ مادری زبان میں نماز اور دعائیں پھر سوال ہوا کہ اگر ساری نماز کو اپنی زبان میں پڑھ لیا جاوے تو کیا حرج ہے۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو اسی کی زبان میں پڑھنا چاہیے اس میں بھی ایک برکت ہوتی ہے خواہ فہم ہو یا نہ ہو اور ادعیہ ماثورہ بھی ویسے ہی پڑھے جیسے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے نکلیں۔یہ ایک محبت اور تعظیم کی نشانی ہے۔باقی خواہ ساری رات دعا اپنی زبان میں کرتا رہے۔انسان کو اول محسوس کرنا چاہیے۔کہ میں کیسا مصیبت زدہ ہوں۔اور میرے اندر کیا کای کمزوریاں ہیں۔کیسے کیسے امراض کا نشانہ ہوں اور موت کا اعتبار نہیں ہے۔بعض ایسی بیماریاں ہیں کہ آدھ منٹ میں ہی انسان کی جان نکل جاتی ہے۔سوائے خدا کے کہیں اس کی پناہ نہیں ہے۔ایک آنکھ ہی ہے جس کی تین سو امراض ہیں۔ان خیالوں سے نفسانی زندگی کی اصلاح ہو سکتی ہے اور پھر ایسی اصلاح یافتہ زندگی کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک دریاسخت طغیانی پر ہے۔مگر یہ ایک عمدہ مضبوط لوہے کے جہاز میں بیٹھا ہوا ہے۔اور ہوائے موافق اسے لے جارہی ہے۔کوئی خطرہ ڈوبنے کا نہیں۔لیکن جو شخص یہ زندگی نہیں رکھتا۔اس کا جہاز بودا ہے۔ضرور ہے کہ طغیانی میں ڈوب جاوے۔عام لوگوں کی نماز تو برائے نام ہوتی ہے۔صرف نماز کو اٹیرتے ہیں اور جب نماز پڑھ چکے تو پھر گھنٹوں تک دعا میں رجوع کرتے ہیں۔