ہیں۔آپ نے وہ تمام کاغذات دستخط کے واسطے حضرت احدیت میں پیش کئے۔اس وقت اﷲ تعالیٰ ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھ اور ایک دوات جس میں سرخ روشنائی تھی وہ پڑی تھی۔اﷲ تعالیٰ نے قلم لے کر اس روشنائی سے لگائی مگر مقدار سے زیادہ روشنائی اس مٰں لگ گئی جیسے کہ دستور ہے کہ ایسی حالت میں چھڑک دیا کرتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے بھی چھڑک دیا اور کاغذات پر بلا دیکھے دستخط کر دیئے اور اس وقت میرے پاس عبد اﷲ سنوری اور حامد علی تھے۔اور میں سویا ہوا تھ اکہ یکا یک انہوں نے جگایا کہ یہ سرخ قطرات کہاں سے آئے دیکھا تو میرے کرتہ پر اور کسی جگہ پگڑی پر اور کہیں پاجامہ پر پڑے ہوئے تھے۔میرے دل میں اس وقت بڑی رقت تھی کہ خد اتعالیٰ کا مجھ پر کس قدر احسان ہے اور فضل ہے کہ کاغذات کو بلا دیھکے اور پوچھے دستخھط کر دیئے ہیں۔اب یہ کیا حیرانی کی بات نہیں ہے۔کہ میں نے تو ایک معاملہ خواب میں دیکھا اور اس کے قطرات ظاہر میں کپڑوں پر پڑے۔جو کہ اب تک موجود ہیں اور دو شاہد بھی ہیں۔ جماعت کی ترقی کا ایک نشان پھر وہ وقت کہ ایک دو آدمی ہمارے ساتھ تھے اور کوئی نہ تھا اور اب دیکھتے ہیں کہ جوق در جوق آرہے ہیں۔ یا تون من کل فج عمیق اور پھر اتنی ہی بات نہیں بلکہ اس کے اوپر ایک اور حاشیہ لگا ہوا ہے کہ مخالفوں نے ناخنوں تک زور لگایا کہ لوگ آنے سے رکیں مگر آخر کار وہ فقرہ پورا ہو کر رہا۔اب جو نیا شخص ہمارے پاس آتا ہے۔وہ اسی الہام کا یاک نشان ہوتا ہے۔ اجنبیت کی حالت میں انسان خد اکے کاموں سے نا آشنا ہوتا ہے۔اب جیسے یہ ریل ہے کہ یہاں کے لوگوں کے نزدیک تو عام بات ہے اور کوئی تعجب اور حیرت کا مقام نہیں مگر جہاں کہ دور دور آبادیوں میںیہ نہیں گئی اور نہ ان لوگوں نے اسے دیکھا ہے ان سے کوئی بیان کرے تو کب باور کریں گے کہ ایک سواری ہے کہ خود بخود چلتی ہے۔نہ اس میں گھوڑا ہے نہ بیل نہ اور جانور۔توجن کو ان خدائی امور کا تجربہ نہیں۔ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ نماز میں لذت نہ آنے کی وجہ پھر اسی صاحب نے اعتراض کای کہ بہت کوشش کی جاتی ہے مگر نماز میں لذت نہیں آتی۔ فرمایا :- انسان جو اپنے تئیں امن میں دیکھتا ہے تو اسے خد اتعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت