نہیں ہوا کرتی اور بھی موت کے بہت سے معنے ہیں خدا کو کوئی نہیں پا سکتا جب تک اس کی اول زندگی پر موت نہ آوے۔
دریا کی تعبیر پر فرمایا کہ
جو معارف اور علم رکھتا ہو اسے دریا سے ہی تعبیر کیا کرتے ہیں اور ابابیل سے مراد وہ جماعت اور لوگ جو اس سے فیوض حاصل کرتے ہیں۔
پھر موت کے ذکر پر فرمایا کہ
موت کے معنے رفعت درجات بھی لکھے ہیں اور صوفی کہتے ہیں کہ انسان نجات نہیں پاسکتا جب تک اس پر بہت موتیں نہ آویں حتیٰ کہ وہ ایک زندگی کو ناقص محسوس کر کے پھر اور ایک زندگی اختیار کرتا ہے۔پھر اس پر موت ہوتی ہے۔پھر ایک اور ہئی زندگی اختیار کرتا ہے۔اور اس طرح کئی موتیں اور کئی زندگیاں حاصل کرتا ہے۔
ایک شخص نے سوال کیا کہ خواب کی کتنی اقسام ہیں۔
خوابوں کی اقسام
حضرت اقدس نے فرمایا کہ
تین قسمیں خوابوں کی ہوتی ہیں۔ایک نفسانی۔ایک شیطانی اور ایک رحمانی۔نفسانی جیسے بلی کو چھچھڑوں کے خواب۔شیطانی وہ جس میں ڈرانا یا وحشت ہو۔رحمانی خواب خدا تعالیٰ کی طرف سے پیگام ہوتی ہیں اور ان کا ثبوت صرف تجربہ ہے۔اور یہ خد اکی باتیں ہیں۔جو اس دنیا سے بہت دور تر ہیں اگر ہم ان کے متعلق عقلی دلائل پر توجہ کریں تو نہ دوسرا اس سے سمجھ سکتا ہے نہ ہم سمجھا سکتے ہیں۔یہ خد اتعالیٰ کی ہستی کے نشان ہیں جو غیب سے دل پر ڈالتا ہے اور جب دیکھ لیتے ہیں کہ ایک بات بتلائی گئی اور وہ پوری ہوئی تو پھر اس پر خود ہی اعتبار ہو جاتا ہے۔اس عالم کے امور کا جو آلہ ہے وہ اسے شناخت نہیں کر سکتا۔یہ روحانی امور ہیں۔انہیں سے ان کو پہچانا جائے تو سمجھ آئے۔اور خواب اپنی صداقت پر آپ ہی گواہی دیتی ہیں۔خدائی امرو ایسے ہی ہوتے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آیا کرتے اور اگر آجاویں تو ھپر خدا بھی سمجھ میں آجائے۔
ایک معجزانہ رئویا
پھر اس کے بعد حضرت اقدس نے اپنے ایک خاوب کا ذکر کای جس میں آپ نے دیھکھ اکہ اﷲ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر متمثل ہوا ہے اور آپ نے کچھ احکام لکھ کر دستخط کرائے