ہی کر لیتے کہ ہم کیا کہتے ہیں۔
لوگوں کو بھی شرم نہیں آتی جو کہ ان کے گالیوں سے بھرے ہوئے اشتہار پڑھتے ہیں کیا مولویوں کی پاکیزگی کا یہی نمونہ ہے ان لوگوں کی بڑی کامیابی یہی ہے کہ مجھ پر چڑ کر نظم ونثر پڑھ دی۔سمجھ میں نہیں آتا۔بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے خود ہی توڑے تو توڑے۔
اشاعت کا بہتر طریق
جہلم کے سفر کے متعلق فرمایا کہ
میری طبیعت ہمیشہ شور اور غوغا سے جو کثرت ہجوم کے باعث ہوتا ہے متنفر ہے ایسے لوگوں سے ساتھ مغز خوری کرنا بے فائدہ ہے وہی وقت انسان کسی علمی فکر میں صرف کرے تو خوب ہے خدا تعالیٰ نے ہماری اشاعت کا طریق خوب رکھا ہے۔ایک جگہ بیٹھے ہیں نہ کوئی واعظ ہے نہ مولوی نہ لیکچرار جو لوگوں کو سناتا پھرے۔وہ خود ہی ہمارا کام کر رہا ہے بیعت کرنے والے خود آرہے ہیں بڑے امن کا طریق ہے۔؎ٰ
Amira 12-5-05
۵؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز دو شنبہ
مذہبی آزادی اور جہاد کی حقیقت
ظہر کے وقت حضور ؑ تشریف لائے تو سرحد کے لوگو ں کے جہاد کے بارے میں غلط فہمی کا ذکر چل پڑا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ
مذہبی امور میں آزادی ہونی چاہیے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
لا اکراہ فیالدین (البقرۃ : ۲۵۷)
کہ دین میں کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے۔اس قسم کا فقرہ انجیل میں کہیں بھی نہیں ہے۔لڑائیوں کی اصل جڑ کیا تھی۔اس کے سمجھے میں ان لوگوں کو غلطی ہوئی ہے۔اگر لڑائی کا ہی حکم تھا تو تیرہ برس رسول اکرم ﷺ کے تو پھر ضائع ہی گئے کہ آپؐ نے آتے ہی تلوار نہ اٹھائی۔ف لڑنے والوں کے سارھ لڑائیوں کا حکم ہے۔اسلام کا یہ اصول کبھی نہیں ہوا۔کہ خود ابتداء لڑائی کا سبب کیا تھا اسے خود خدا نے بتلایا ہے کہ ظلموا