پڑی ان کا بھی انکار ہوا تھا۔فرمایا۔ یہ ضرور نہیں ہے کہ خدا ہر وقت ایک ہی رنگ میں عذاب دیوے۔قرآن شریف میں عذاب کی کئی اقسام بیان کی گئی ہیں۔ جیسے قل ھواقادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم اومن تحت ارجلکم او یلبسکم شیعا ویذیق تعضکم باس بعض (انعام : ۶۶) جنگ و لڑائی وغیرہ کو بھی عذاب قرار دیا ہے۔عذاب بہت اقسام کے ہوتے ہیں کیا خدا تعالیٰ کے پاس عذاب کی ایک ہی قسم ہے؟ اور خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ ہر نشان میں ایک پہلو اخفا کا رکھتا ہے ورنہ وہ چاہے تو چن چن کر بڑے بڑے بدمعاش ہلاک کر دے سب لوگ ایک ہی دن میں سیدھے ہو جاویں۔ ایک الہام کی تشریح مولوی محمد احسن صاحب نے کہا کہ حضور اب الوم من یلوم کا الہام خوب پورا ہوا۔حضور کے بتلائے ہوئے علاج پر لوگ کیا کیا باتیں بناتے تھے اور طریق ملامت ان لوگوں نے اختیار کیا ہوا تھا۔خدا تعالیٰ نے اس ملامت کے بدلے میں کیسی ملامت کی ہے۔جس ٹیکہ کو پیش کر کے ملامت کرتے تھے۔اب خود ہی اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔پھر حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ فرماتاہے کہ میں اسے (طاعون کو) کبھی بند نہ کروں گا جب تک توبہ نہ کریں۔خدا تعالیٰ کا اصل مطلب تو طاعون سے افطار ہے (یعنی ہلاک کرنے کا) مگر پھر رحم آتا ہے تو روزہ رکھ لیتا ہے (یعنی درمیان مٰں وقفہ دے دیتا ہے) کہ لوگ اگر چاہیں تو توبہ کر لیں۔لوگوں سے اگر چہ ہمیں ہمدردی ہے مگر چوہکہ لوگ خدا تعالیٰ سے غافل ہیں اس لئے اس کو یاد کرانے کے واسطے تنبیہہ کی ضرورت ہے جیسے ایک لحاف کے اندر اکا استر بھی میلا اور پلید ہو اور باہر کا ابرہ بھی ویسے ہی خراب ہو۔اسی طرح اب اندرونی ارو بیرونی دونو حالتیں قابل اصلاح ہیں لوگوں کو یہ بات تعجب میں ڈال رہی ہے کہ ایسا ہوگا کہ خدا اپنی ہستی کو منواوے یہ ان کی غلطی ہے وہ اپنے وجود کو ضرور منواوے گا۔ آثار سے پتہ لگتا ہے کہ جہاں جہان طاعون پڑی ہوئی ہے ابھی تک لوگ اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ابھی کل امرتسر سے ایک اشتہار آیا ہے کہ تین سالہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور اس پر استہزاء کیا ہے حالانکہ ان کو چاہئے تھا کہ انتظار کرتے کہ ہم کیا لکھتے ہیں کم ازکم ہم سے دریافت