نے نسخہ کے استعمال میں غلطی اور بد پرہیزی کی ہے۔ یہ تو ہم کہہ نہیں سکتے کے ارکان اسلام میں غلطی تھی اور نماز روزہ حج زکوۃ موئثر علاج نہ تھاکیو نکہ اس نسخہ نے ان مریضوں کو اچھا کیا جن کی نسبت لاعلاج کا فتویٰ دیاگیا تھا۔
میں جانتاہوںجن لوگوں نے ان ارکان کو چھو ڑ کر اور بدعتیں تراشی ہیں یہ اُن کی شامت ِاعمال ہے اور وہ قرآن شریف تو کہہ چکاتھا ۔ اَلْیَوْم َاَکْملْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ (المائدہ:۴)
اکمال دین ہو چکاتھااور اتمام ِ نعمت خداکے حضورپسندیدہ دین اسلام ٹھہرچکاتھا ۔ اب پیغمبر صلّی اللہ علیہ وسلم کے اعمال خیر کی راہ چھوڑ کر اپنے طریقے ایجادکرنا اور قرآن شریف کی بجائے اور وظائف کا خیال پڑھنایا اعمال صالحہ کی بجائے قسم قسم کے ذکر و اذکار نکال لینا یہ لذّتِ روح کے لیے نہیںہے ، بلکہ لذّتِ نفس کی خاطر ہے لوگوں نے لذّتِ نفس اور لذّتِ روح میں فرق نہیں کیا اور دونوں کو ایک ہی چیز قرار دیا ہے ؛حالانکہ وہ دو مختلف چیزیں ہیں ۔ اگر لذّتِ نفس اور لذّت روح ایک ہی چیز ہے تو میں پوچھتا ہوں کے ایک بد کا ر عورت کے گانے سے بدَمعاشوں کو زیادہ لذت آتی ہے۔کیا وہ اس لذت نفس کی وجہ سے عارف باللہ اور کامل انسان مانے جائیں گئے ۔ہر گز نہیں جن لوگوں نے خلاف شرع اور خلاف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نکالی ہیں ان کو یہی دھوکا لگاہے کے وہ نفس اور رُوح کی لذّت میں کوئی فرق نہیں کرسکتے اور نہ وہ ان بیہودگیوں میں رُوح کی لذّت اور اطمینان نہ پائے ان میں نفس مطمئنہّ نہیں ہے جو بُلہّے شاہ کی کافیوں میں لذّت جو یاں ہیں روح کی لذت قرآن شریف سے آتی ہے ۔٭
اپنی شامت ِاعمال کو نہیں سوچا اُن اعمال خیرکو جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے ، ترک کردیا اور ان کی بجائے خودتراشیدہ دُرود وظائف داخل کر لیے اور چند کافیوں کو حفظ کر لینا کافی سمجھا بُلہّے شاہ کی کافیوں پر وجد میںآجاتے ہیں ۔اور یہی وجہ ہے کے قرآن شریف کا جہاں وعظ ہو رہا ہو ،وہا ں بہت ہی کم لوگ جمع ہوتے ہیں ،لیکن جہاںاس قسم کے مجمع ہوں وہاںایک گروہ کثیر جمع ہو جاتاہے ۔نیکیو ں کی طرف یہ کم رغبتی اور نفسانی او ر شہوانی اُمور کی طرف توجہ صاف ظاہر ہوتی ہے کہ لذّت روح اور لذّت نفس میں ان لوگوں نے کوئی فرق نہیں سمجھاہے ۔
دیکھاگیا ہے کہ بعض ان رقص و سرُود کی مجلسوں میں دانستہ پگڑیاںاُتار لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں صاحب کی مجلس میں بیٹھے ہی وجدہوجاتاہے ۔اس قسم کی بدعتیں اور اختراعی مسائل پیداہو گئے ہیں اصل بات یہ کہ جنہوںنے نمازسے لذّت نہیں اُٹھائی اور اس ذوق سے محروم ہیں ۔وہ روح کی تسلّی اور اطمینان کی حالت