مت خیال کرو کہ ہامرا ملک یا شہریا گائوں ابھی تک محفوظ ہے۔یہ کل دنیا کے لئے مامور ہو کر آئی ہے اور اپنے وقت پر ہر جگہ پھرے گی۔اس کے دورے بڑے لمبے ہوتے ہیں۔بعض وقت لوگ ان وجوہات کو نہیں سمجھ سکتے۔لیکن یاد رکھو کہ جو کچھ ہو رہا ہے اﷲ تعالیٰ کے حکم اور ایماء سے ہو رہا ہے۔اب اس کے وجوہ موٹے ہیں۔بائیس برس پہلے خدا تعالیٰ نے براہین میں مجھے اس کی خبر دی اور پھر متواتر وقتاً فوقتاً وہ اطلاع دیتا رہا۔یہاں تک کہ جب ابھی پنجاب کے دو ضلعوں میں تھی تو اس نے مجھے بتایا کہ کل پنجاب اس کے اثر سے متاثر ہو جائے گا۔اس وکت لوگوں نے اس پر ہنسی کی۔مگر اب بتائیں کہ ان کی ہنسی کا کای جواب ہوا؟ اجنبی لوگ اگر نہ مانیں تو نہ سہی مگر ہماری جماعت جو دن رات نشانا تکو دیکھتی ہے اسے چاہیے کہ اپنی تبدیلی کرے۔جو شخص امن کے زمانہ میں خدا سے درتا ہے وہ بچایا جاتا ہے۔ڈرنے والے زمانہ میں تو ہر ایک ڈرتا ہے جب سونٹا اٹھا یا جاوے تو اس سے بھیڑ ‘ بکری‘ کتا‘ بلی سب ڈرتے ہیں۔انسان کی اس میں کون سے خوبی ہے۔یہ تو اس حالت میں ان سے جا ملا۔اس کی دانشمندی اور دوربینی اک یہ تقاضا ہونا چائیے تھا کہ پہلے ہی سے ڈرتا۔بعض گائوں میں سخت تباہی ہو چکی ہے یہاں تک کہ گھروں کے گھر مقفل ہو گئے۔جب زور سے پڑتی ہے تو پھر کھا جانے والی آگ کی طرح ہوتی ہے۔ایک بار بلاو شام میں پڑی تھی تو جانوروں تک کی صفائی اس نے کردی تھی۔یہ بڑی خطرناک بلا ہے۔اس سے بے خوف ہونا نادانی ہے۔حقیقی ایمان ایک موت ہے۔جب تک انسان اس موت کو اختیار نہ کرے۔دوسری زندگی مل نہیں سکتی۔ تقویٰ کی اہمیت جو لوگ نری بیعت کر کے چاہتے ہیں کہ خدا کی گرفت سے بچ جائیں۔وہ غلطی کرتے ہین۔ان کو نفس نے دھوکا دیا ہے۔دیکھو طبیب جس وزن تک مریض کو دوا پلانی چاہتا ہے۔اگر وہ اس حدتک نہ پیوے تو شفا کی امید رکھنی فضول ہے۔مثلاً وہ چاہتا ہے کہ دس تولہ استعمال کرے اور یہ صرف ایک ہی قطرہ کافی سمجھتا ہے یہ نہیں ہو سکتا پس اس حد تک صفائی کرو۔اور تقویٰ اختیار کرو جو خدا کے غضب سے بثانے والا ہوتا ہے۔اﷲ تعالیٰ رجوع کرنے والوں پر رحم کرتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا۔تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔اﷲ تعالیٰ رجوع کرنے والوں پر رحم کرتا ہے کیونکہ اگر ی ایسا نہ ہوتا۔تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا ۔انسان جب متقی ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے اور اس کے غری میں فرقان رکھ دیتا ہے اور پھر اس کو ہر تنگی سے نجات دیتا ہے نہ صرف نجات بلکہ یرزقہ من حیث لا یحتسب (الطلاق : ۴) پس یاد رکھو جو خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے خدا تعالیٰ اس کو مشکلات سے رہائی دیتا ہے ارو انعام و اکرام بھی کرتا ہے اور پھر متقی خد اکے ولی ہو جاتے