ہے کہ ایک چھوٹے سے مسئلہ وفات و حیات مسیح پر وہ شور اٹھایا گیا جس کی حد نہیں رہی۔قتل کے فتوے دئے گئے۔اس میں راز یہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس سلسلہ کی اشاعت چاہتا ہے۔ دربارِ شام بیعت کے بعد طاعون کا ذکر ہوا جس پر حضرت اکدس نے ایک لمبی تقریر طاعون کے متعلق فرمائی ہم کسی قدر تلخیص کے ساتھ اس کو ذیل میں لکھتے ہیں :- تقویٰ کی ضرورت فرمایا :-جب تک انسان تقویٰ میں ایسا نہ ہو جیسے اونٹ کو سوئی کے ناکے سے نکالنا پڑے اس وقت تک کچھ نہیں ہوتا۔جس قدر زیادہ تقویٰ اختیار کرتا ہے اسی قدر اﷲ تعالیٰ بھی توجہ فرماتا ہے۔اگر یہ اپنی توجہ معمولی رکھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ بھی معمولی توجہ رکھتا ہے۔ طاعون کا عذاب خدا تعالیٰ نے فرمایا گضبت غضبا شدیدا یہ طاعون کے متعلق ہے اور پھر فرمایا انی مع الرسول اقوم والوم من یلوم افطر واصوم میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔اور اس کو ملامت کروں گا جو ملامت کرتا ہے۔میں روزہ کھولوں گا بھی اور روزہ رکھون گا بھی۔یہ سب الہام طاعون کے متعلق ہیں ۔ملامت ایک دل کے ساتھ ہوتی ہے ارو ایک زبان کے ساتھ۔زبان کے ساتھ تو یہی ملامت ہے جو مخالف کرتے ہیں۔لیکن دل کی ملامت یہ ہے کہ ان باتوں کی طرف توجہ نہ کرے جو ہم پیش کرتے ہین ارو ان پر عمل کے لئے تیار نہ ہو۔روزہ رکھوں گا اور کھولوں گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت تک گویا طاعون کا زور گھٹ جائے گا۔یہ روزے کے دن ہوں گے اور ایک وکت ایسا ہو گا کہ اس میں کثرت سے ہوگی۔اب دیکھا گیا ہے کہ کثرت سردی اور کثرت گرمی میں اس کی شدت اور تیزی رک جاتی ہے۔لیکن بہاری موسم فروری‘مارچ اور ستمبر اکتوبر میں اس کا زور بڑھ جاتا ہے۔مگر یہ یاد رکھنا چہائے کہ یہ دورے تھمنے والے نہیں ہیں خدا تعالیٰ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دورے شدید ہیں۔زمین پر خدا تعالیٰ سے غفلت اور سستی پھیل گئی ہے۔نیکیوں کی طرف توجہ نہیں رہی۔ایسی صورت میں کیا اس کا علاج ڈاکٹری اصولوں سے ہوگ ایا کوئی اور علاج اثر پذیر ہو سکے گا جب تک خدا تعالیٰ کی مرضی نہ ہو؟