ہیں۔تقویٰ ہی اکرام کا باعث ہے کوئی خواہ کتنا ہی لکھا پڑھا ہوا ہو وہ اس کی عزت و تکریم کا باعث نہیں اگر متقی نہ ہو۔لیکن اگر ادنیٰ درجہ کا آدمی بالکل امی ہو مگر متقی ہو وہ معزز ہوگا۔یہ دن خدا تعالیٰ کے روزہ کے ہیں۔ان کو غنیمت سمجھواس سے پہلے کہ وہ اپنا روزہ کھولے تم اس سے صلح کر لو اور پاک تبدیلی کر لو جنوری کا مہینہ باقی ہے فروری میں پھر وہی سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ایسی بلائوں کا باعث صادق کی تکذیب ہوتی ہے۔اس لئے اور کوئی علاج کا رگر نہیں ہوسکتا۔بعض صحابہؓ بھی اس مرض سے مرے ہیں لیکن وہ شہید ہوئے۔جیسے لڑائیاں جو دشمنوں کی ہلاکت کا موجب تھیں ان میں مرنے والے صحابہؓ بھی شہید ہوئے تھے جو نیک آدمی مرجاتا ہے اس کو بشارت شہادت ملتی ہے جو بد آدمی مرتا ہے ا سکا انجام جہنم ہے جو شخص نیکیوں میں ترقی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے پناہ مانگتا رہتا ہے۔اﷲ تعالیٰ اس کو بچا لیتا ہے۔دیکھو ایک لاکھ جوبیس ہزار یا کم وبیش واﷲ اعلم پیگمبر گذرے ہیں۔مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان مٰن سے کوئی طاعون سے بھی ہلاک ہوا تھا۔ہر گز نہیں۔یہ بلہ بھی مامور ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے حکم سے نازل ہوتی ہے۔اس کی مجال نہیں کہ بلا حکم کوئی کام کرے۔
(یہاں حضرت اقدس نے ہاتھی والی رئویا سنائی جو کئی مرتبہ شائع ہوئی)
پھر فرمایا کہ
اگر چہ آج کل کسی قدر امن ہے مگر میں ڈرتا ہوں کہ وہ وقت خطرناک زور کا قریب ہے اس لئے ہماری جماعت کو ڈرنا چاہئے۔اگر کسی میں تقویٰ ہو جیسا کہ خد اتعالیٰ چاہتا ہے۔تو وہ بچایا جائے گا۔اس سلسلہ کو خدا تعالیٰ نے تقویٰ ہی کے لئے قائم کیا ہے کیونکہ تقویٰ کا میدان بالکل خالی ہے۔پس جو متقی بنیں گے ان کو معجزہ کے طور پر بچایا جائیگا۔
عرب صاحب نے پوچھا جو لوگ حضور کو برا نہیں کہتا اور آپ کی دعوت کو نہیں سنا۔وہ طاعون سے محفوظ رہ سکتے ہیں یا نہیں۔فرمایا :-
میری دعوت کو نہیں سنا تو خدا کی دعوت تو سنی ہے کہ تقویٰ اختیار کریں۔پس جو تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہمارے ساتھ ہی ہے خواہ اس نے ہماری دعوت سنی ہو یا نہ سنی ہو کیونکہ یہی غرض ہے ہماری بعثت کی۔اس وکت تقویٰ عنقا یا کبریت کی طرح ہو گیا ہے کسی کام میں خلوص نہیں رہا بلکہ ملونی ملی ہوئی ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس ملونی کو جلا کر خلوص پیدا کرو۔اس وقت
ظھر الفساہ فی البر والبحر (الروم : ۴۲)
کا نمونہ ہے۔آنحضرت ﷺ کے وقت یورپ اور دیگر ممالک کی بگڑی ہوئی حالتوں کا علم نہ تھا۔ خدا تعالیٰ کی وحی پر ایمان تھا اور اب