احمدیہ میں جو لکھا تھا کہ
اذا جاء نصراﷲ والفتح وانتھی امرالزمان الینا۔الیس ھذابالحق
اب دیکھیں کہ وہ وقت آیا ہے یا نہیں۔گورنمنٹ پنجاب کی خدمت میں جو میموریل ستمبر ۱۸۹۹ء میں بھیجا گیا تھا۔اس میں صاف اس امر کی پیشگوئی ہے کہ یہ جماعت تین سال میں ایک لاکھ ہو جائے گی۔اور وہ پوری ہو گئی بہت سے لوگ ایسے ضعفاو غرباء میں سے ہیں جو اس سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں۔مگر آنہیں سکتے۔
دنیا کے بارہ میں دین دار کا رویّہ
فرمایا ۔ دیندار آدمی دنیا داروں کی طرھ رجوع کرنے میں اپنی ذلت اور توہین سمجھتا ہے۔ایک صحابی پر رسول اﷲ ﷺ ناراض تھے۔اس وقت ایک بادشاہ نے اپنا سفیر اس کے پاس بھیجا اور چاہا کہ وہ اس کے پاس چلے آویں۔صحابیؓ نے اس خط کو لے کر تنور مین پھینک دیا اور رونا شروع کر دیا کہ ایک طرف تو میری یہ حالت ہیکہ آنحضرت ﷺ ناراض ہیں اور دوسری طرف میں یہاں تک گر گیا کہ ایک کافر میرے ایمان پر طمع کرنے لگا۔مجھ سے ضرور کوئی سخت معصیت ہوئی ہے۔جس قدر زیادہ دینداری اور خدا پرستی ہوگی۔اسی قدر اہل دنیا سے نفرت پیدا ہوگی۔
سلسلہ کی اشاعت
ہم کو جس قدر تکالیف دی گئی ہیں اور جس قدر سب و شتم کیا گیا ہے۔یہ ہماری تبلیغ کے لئے ذریعہ ہو گیا ہے۔جیسے جس قدر گرمی شدت سے ہو برسات بھی اسی نسبت سے زیادہ ہوتی ہے۔عرب کے لوگ عیش وعشرت اور ناپاک خواہشوں اور فعلوں مین مستغرق تھے۔انہیں مذہب اور مذہبی مباحثات سے کیا کام تھا مگر آنحضرت ﷺ کے مقابل میں یوں کھڑے ہو گئے جیسے کوئی بڑا عاشق مذہب دیندار ہوتا ہے۔یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ اس شور سے ساری قوموں میں جلد جلد آپ کی دعوت پھیل جائے۔انہوں نے آنحضرت ﷺ کو بڑی تکالیف دیں مگر آخر وہی ہوا جو خدا تعالیٰ کا منشا تھا۔اسی طرح پر یہاں دیکھ لو کہ کس قدر زور شور سے مخالفت ہوئی۔اور ہو رہی ہے۔بہت سے لوگ ہیں جو بدعات اور بدکاریوں میں مبتلا ہیں۔اکثر ہیں جو کنجریوں کے پیر بنے ہوئے ہیں۔اور بھنگ‘چرس‘ مدک‘ تاڑی‘ گانجا‘ شراب وغیرہ پیتے ہیں یہ دہریہ ہوتے ہیں مگر کوئی ان سے تعرض نہیں کرتا۔برخلاف اس کے ہماری اس قدر مخالفت کی جاتی