رہے تھے۔راستہ ہی میں خبر ملی۔وہیں یقین لے آئے۔اس کی وجہ وہ معرفت تھی جو آپ کی تھی۔معرفت بڑی عمدہ چیز ہے۔جب انسان کسی کے حالت اور چال چلن سے پورا وقف ہو تو اس کو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی۔ایسے لوگوں کو معجزہ اور نشان کی کوئی حاجت ہی نہی ہوتی حضرت ابو بکر صدیق آپ کے حالات سے پورے واقف تھے۔اس لئے سنتے ہی یقین کر لیا۔ تقویٰ اختیار کریں فرمایا -ہمیں جس بات پر مامور کیا ہے۔وہ یہی ہے کہ تقویٰ کا میدان خالی پڑا ہے تقویٰ ہوان چاہئے نہ یہ کہ تلوار اٹھائو۔یہ حرام ہے۔اگر تم تقویٰ کرنے والے ہوگے۔تو ساری دنای تمہارے ساتھ ہوگی۔پس تقویٰ پیدا کرو۔جو لوگ شراب پیتے ہیں یا جن کے مذہب کے شعائر میں شراب جزواعظم ہے ان کو تقویٰ سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔وہ لوگ نیکی س یجنگ کر رہے ہی۔پس اگر اﷲ تعالیٰ ہماری جماعت کو ایسی خوش قسمت دے اور انہیں توفیق دے کہ وہ بدیوں سے جنگ کرنے والے ہوں اور تقویٰ اور طہارت کے میدان میں ترقی کریں۔یہی بڑی کامیابی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی چیز موثر نہیں ہوسکتی۔اس وقت کل دنیا کے مذاہب کو دیکھ لو کہ اصل غرض تقویٰ مفقود ہے اور دنیا کی وجاہتوں کو خدا بنایا گیا ہے۔حقیقی خدا چھپ گیا ہے اور سچے دخا کی ہتک کی جاتی ہے مگر اب خد اچاہتا ہے کہ وہ آپ ہی مانا جاوے اور دنیا کو اس کی معرفت ہو جو لوگ دنیا کو خدا سمجھے ہیں وہ متوکل نہیں ہوسکتے۔ (اس سیر میں سے ہم نے مضمون غیر کو نکال کر آپ ہی تقریر کے مختلف فقروں کو یک جاجمع کر دیا ہے (ایڈیٹر) جماعت کی تعداد ظہر سے پہلے لودھیانہ سے آئے ہوئے احباب نے شرف نیاز حاصل کیا۔قاضی خواجہ علی صاحب نے مولوی محمد حسین صاحب کی ملاقات کا ذکر کیا کہ میں نے ان کو کہا تھا قادیان چلو۔ فرمایا :- اگر وہ یہاں آجاوے تو اس کو اصل حالات معلوم ہوں اور ہامری جماعت کی ترقی کا پتہ لگے وہ ابھی تک تین سو تک ہی کہتا ہے اور یاہں اب ڈیڑھ لاکھ سے بھی تعداد زیادہ بڑھ گئی ہے۔اگر شبہ ہو تو گورنمنٹ کے حضور درخواست کر کے ہماری جماعت کی الگ مردم شماری کرالیں۔براہین