جماعت کے ازدیادِ ایمان کے لئے نشانات کا ظہور فرمایا :-اﷲ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ ہماری جماعت کا ایمان کمزور رہے۔مہمان اگر نہ بھی چاہے تو بھی میزبان کا فرض ہے کہ اس کے آگے کھانا رکھ دے۔اسی طرح پر اگر چہ نشانوں کی ضرورت کوئی بھی نہ سمجھے۔تب بھی اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کے ایمان کو بڑھانے کے لئے نشانات ظاہر کر رہا ہے۔یہ بھی سچی بات ہے کہ جو لوگ اپنے ایمان کو نشانوں کے ساتھ مشروط کرتے ہیں وہ سخت غلطی کرتے ہیں۔حضرت مسیحؑ کے شاگردوں نے مائدہ کا نشان مانگا تو یہی جواب ملا کہ اگر اس کے بعد کسی نے انکار کای تو ایسا عذاب ملے گا جس کی نظیر نہ ہوگی۔ طالب کا ادب پس طالب کا ادب یہی ہے کہ وہ زیادہ سوال نہ کرے اور نشان طلب کرنے پر زور نہ دے۔جو اس آداب کے طریق کو ملحوظ رکھتے ہیں خدا ان کو کبھی بے نشان نہیں چھوڑتا۔اور ان کو یقین سے بھر دیتا ہے۔صحابہؓ کی حالت کو دیکھو کہ انہوں نے نشان نہیں مانگے۔مگر کیا خد انے ان کو بے نشان چھوڑا؟ ہرگز نہیں۔تکالیف پر تکالیف اٹھائیں۔جانیں دیں۔اعداء نے عورتوں تک کو خطرناک تکلیفوں سے ہلاک کیا۔مگر نصرت نہوز نمودار نہ ہوئی۔آخر خدا کے وعدہ کی گھڑی آگئی اور ان کو کامیاب کر دیا۔اور دشمنوں کو ہلاک کیا۔یہ سچی بات ہے کہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔اگر وہ پہلے ہی دن سارے نشان ظاہر کے دے تو پھر ایمان کا کوئی ثواب اور نتیجہ ہی نہ ہو۔عرفان آکر یقین سے تو بھر دیتا ہے مگر اس میں کچھ بیھ شک نہیں کہ ان ساری ترقیوں کی جڑ ایمان ہی ہے۔اسی کے ذریعہ سے انسان بڑی بڑی منزلیں طے کرتا اور سیر کرتا ہے۔ سبحن الذی اسری بعبدہ (بنی اسرائیل : ۲) سے یہی پایا جاتا ہے کہ جب کامل معرفت ہوتی ہے تو پھر اس کو عجیب و غریب مقامات کی سیر کرائی جاتی ہے اور یہ وہی لوگ ہوتے ہیں۔جو ادب سے اپنی خواہشوں کو مخفی رکھتے ہین۔تمام منہاج نبوت اسی پر دلالت کرتا ہے۔پہلے نشان بھی ظاہر نہیں ہوتے بلکہ ابتلا ہوتے ہیں۔ صدیقی فطرت حاصل کریں پس صدیکی فطرت حاصل کرنی چاہئے۔انہوں؎ٰ نے کونسا نشان مانگا تا۔شام سے مکہ کو آ