پیشگوئی کر سکتا ہے اور خصوصاً اس پر تیس برس گذر بھی گئے ہوں ارو ایسا ہی اس وکت جب کوئی نہ جانتا تھا اور نہ یہاں آتا تھا۔یہ کہا یاتون من کل فج عمیق اور یا تیک من کل فج عمیق کیا یہ مفتری کر سکتا ہے کہ ایسا کہے اور پھر خدا بھی اسیے مفتری کی پروا نہ کرے بلکہ اس کی پیشگوئی پوری کرنے کو دور دراز سے لوگ بھی اس ک یپاس آتے ہین اور ہر قسم کے تحائف اور نقد بھی آنے لگیں۔اگر یہ بات ہو کہ مفتری کے ساتھ بھی ایسے معاملات ہوتے ہیں۔پھر نبوت سے ہی امان اٹھ جاوے۔یہی نشان ہیں جو ہامری جماعت کی محبت اور اخلاص میں ترقی کا باعث ہو رہے ہیں۔مفتری اور صادق کو تو اس کے منہ ہی سے دیکھ کر پہچان سکتے ہیں۔ فرمایا :- سچائی کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ صادق کی محبت سعید الفطرت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔احمق کو یہ راہ نہیں ملتی کہ نور کا حصہ لے۔وہ ہر بات میں بدگمانی ہی سے کام لیتا ہے۔ فرمایا :- ہم کو تکلف اور تصنع کی حاجب نہیں۔خواہ کوئی ہماری و ضع سے راضی ہو یا ناخوش۔ہامرا اپنا کوئی کام نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کا اپنا کام ہے اور وہ خود کر رہا ہے۔ فرمایا :- جب انسان خدا کو چھوڑ تا ہے تو پھر مکائد پر بھروسہ کرتا ہے۔ اپنی سچائی پر بصیرت فرمایا :-اﷲ تعالیٰ ہم کو محجوب ہونے کی حالت میں نہ چھوڑے گا۔وہ سب پر اتمام حجت کر دے گا۔یاد رکھو سماوی اور ارضی آدمیوں میں فرق ہوت اہے جو خد اتعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔وہ خود ان کی عزت کو ظاہر کرتا ہے اور ان کی سچائی کو روشن کر کے دھاتا ہے۔اور جو اس کی طرف سے نہیں آتے اور مفتری ہوتے ہیں وہ آخر ذلیل ہو کر تباہ ہو جاتے ہیں۔ پیشگوئیوں کے اسرار پیشگوئیوں کے متعلق فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے اور اس کا کلام بہر حال سچا ہے۔ہان یہ ہوتا ہے کہ کبھی وہ جسمانی رنگ میں پوری ہوتی ہیں کبھی روحانی رنگ میں۔اور منہاج نبوت میں اس کے نظائر موجود ہیں۔آنحضرت ﷺ نے دیکھ اکہ کچھ گائیں ذبح ہوئی ہیں تو وہ صحابہؓ کا ذبح ہونا تھا۔اور آپ نے دیھا کہ سونے کے کڑے پہنے ہوئے ہیں جو پھونک مارنے سے اڑگئے ہیں۔اس سے مراد جھوٹے پیغمبر تھے۔پس خد اکا کالم کسی نہ کسی رنگ میں ضرور سچا ہے۔