اور وہ واقعی اخلاص سے لکھا تھا کیونکہ اس وقت اس کی یہ حالت تھی کہ بعض اوقات میرے جوتے اٹھا کر جھاڑ کر آگے رکھ دیا کرتا تھا اور ایک بار مجھے اپنے مکان میں اس غرض سے لے گیا کہ وہ مبارک ہو جاوے اور ایک باراصرار کرکے مجھے وضو کرایا۔غرض بڑا اخلاص ظاہر کیا کرتا تھا۔ کئی بار اس نے ارادہ کیا کہ میں قادیان ہی میں آکر رہوں ۔مگر میں نے اس وقت اسے یہی کہا تھا کہ ابھی وقت نہیں آیا۔اس کے بعد اسے یہ ابتلاء پیش آگیا۔کیا تعجب ہے کہ اس اخلاص کے بدلے میں خدا تعالیٰ نے اس کا انجام اچھا رکھا ہو۔؎ٰ اس پر ایک بھائی نے سوال کیاکہ حضر اب اسے کیا سمجھیں۔ فامایا۔ اب تو حکم حالت موجودہ ہی پر ہوگا۔وہ دشمن ہی اس سلسلہ کا ہے۔دیکھو جب تک نطفہ ہوتا ہے اس کا نام نطفہ رکھتے ہیں گو اس کا انسان بن جاوے مگر جوں جوں اس کی خالتیں بدلتی جاتی ہیں اس کا نام بدلتا جاتا ہے۔مضغہ علقہ وغیرہ ہوتا ہے۔آخر اپنے وقت پر جا کر انسان بنتا ہے۔یہی حال اس کا ہے۔سردست تو وہ اس سلسلہ کا مخالف اور دشمن ہے اور یہی اس کو سمجھنا چاہئے۔ پھر اس ضمن میں فرمایا کہ سزا اور عذاب صرف کفر ہی کے باعث نہیں آتا۔بلکہ فسق و فجور بھی عذاب کا موجب ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ صادقوں ہی کی نصرت اور تائید کرتا ہے فرمایا :- کبھی کوئی جھوٹ اس قدر چل نہیں سکتا۔آخر دنیا میں ہم دیکھتے ہیں ۔کہ بدی کرنے والے جھوٹے اور فریبی اپنے جھوٹ میں تھک کر رہ جاتے ہیں۔پھر کیا کوئی ایسا مفتری ہو سکتا ہے جو برابر پچیس برس سے خدا تعالیٰ پر افترا کر رہا ہو اور تھکا نہ ہو اور خد اکو بھی اس کے ئے غیرت نہ آوے بلکہ اس کی تائید میں نشانات ظاہر کرتا رہے۔یہ عجیب بات ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ ہمیشہ صادقوں ہی کی نصرت اور تائید کرتا ہے۔ دیکھو یہ جو میری پیشگوئی ہے کہ میری عمر اسی برس کے قریب ہوگی کیا کوئی مفتری اس قسم کی