پائے جاتے ہیں ۔ ہر گزنہیں وہ لوگ جنھوں نے آپؐ کی ذات خاص اور عزیزوں اور صحابہ کو سخت تکلیفیں دی تھیں اور ناقابل عفو ایذائیں پہنچائی تھیں۔آپ نے سزا دینے کے قوت اور اقتدار کو پا کر فی الفور ان کو بخش دیا ؛حالانکہاگر ان کو سزا دی جاتی ،تو یہ بالکل انصاف اور عدل تھا ،مگر آپؐ نے اس وقت عفو اور کرم کا نمونہ دکھایا ۔یہ وہ امور تھے کے علاوہ معجزات کے صحابہ پر مؤثر ہوئے تھے ۔ اسلیے آپؐاِسمِ بامسمیٰ محمدؐ ہو گئے تھے ۔ﷺ۔اور زمین پرآپؐ کی حمد ہو تی تھی اور اسی طرح آسمان پر بھی آپؐ کی تعریف ہو تی تھی اور آسمان پر بھی آپؐ محمدؐ تھے یہ نام آپؐ کا اللہ تعالیٰ نے بطورِنمونہ کے دنیاکو دیا ہے ۔جب تک انسان اس قسم کے اخلاق اپنے اندر پید انہیں کرتا،کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کامل طور پر انسان اپنے اندر نہیں کر سکتا ۔ جبتک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور طرز عمل کو اپنا رہبر اور ہادی نہ بنا دے؛چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت فرمایا
قُل ْاِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہ َفَاتَّبِعُوْنِيْیُحبِبْکُم ُاللہ ٍٰ(آل عمران ؛۳۲)
یعنی محبوبِ اِلہی بننے کے لیے ضروری ہے کے رسول اللہ ﷺکی اتباع کی جاوے ۔سچیّ اتباع آپؐکے اخلاق فاضلہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے ،مگر افسوس ہے کہ آج کل لوگوں نے اتباع سے مُراد صرف رفع یدین ۔ آمین بالجہراور رفع سبابہ ہی لیا ہے ۔ باقی امور کو جو اخلاق فاضلہ آپ ؐکے تھے۔اُن کو چھوڑدیا۔ یہ منافق کا کام ہے کہ آسان اور چھوٹے اُمور بجالاتاہے اور مشکل کو چھوڑتاہے ۔ سچّے مومن اور مخلص مسلمان کی ترقیوںاور ایمانی درجوں کا آخری نقطہ تو یہی ہے کہ وہ سچّامتبّع ہو اور آپؐ کے تمام اخلاص کو حاصل کرے جو سچائی کو قبول نہیں کرتا ۔ وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتاہے ۔کروڑںمسلمان دنیا میںموجود ہیں اور مسجدیںبھی بھری ہوئی نظرآتی ہیں ۔مگر کوئی برکت اور ظہور ان مسجدوں کے بھرے ہونے سے نظر نہیںآتا ۔اس لیے کے جو سب کچھ جاتاہے محض رسوم اور عادات کے طور پرکیا جاتاہے ۔ وہ سچّااخلاص اور وفاجو ایمان کے حقیقی لوازم ہیں ۔ان کے ساتھ پائے نہیں جاتے ۔سب عمل ریاکاریاور نفاق کے پردوں کے اندر مخفی ہو گئے ہیں ۔ جُوں جُوں انسان ان کے حالات سے واقف ہو تاجاتاہے ۔ اندرسے گنداورخبثت نکلتاآتاہے مسجدسے نکل کر گھر کی تفتیش کرو تویہ ننگ ِاسلام نظر آئیں گئے ۔مثنوی میں ایک حکایت لکھی ّہے کے ایک کوٹھا ہزارمن گندم سے بھرا ہوا خالی ہوگیا ۔ اگر چُوہے اس کونہیں کھا گئے ،تووہ کہاںگیا پس اسی طرح پچاس برسوں کی نماز وں کی جب برکت نہیں ہوئی ۔اگر ریااور نفاق نے ان کو باطل اور حبط نہیںکیا تووہ کہاںگئیں ۔خداکے نیک بندوں کے آثار پائے نہیں جاتے ۔ایک طبیب جب کسی کا علاج کرتاہے ۔ اگر وہ نسخہ اس کے لیے مفید اورکارگر نہ ہوتو ،چند روزکے تجربے کے بعد اس کو بدل دیتاہے اورپھر اس کو تشخیص کرتاہے ، لیکن ان مریضوںپر تو وہ نسخہ استعمال کیا گیا ہے جو ہمشہ مفید اور زُود اثر ثابت ہو ا ہے تواس سے معلوم ہوتاہے کے انھوں