نظر نہیںآتا ۔ ان کے تصور میں بھی بجُزروشنی کے کچھ نظر نہیںآتاحالانکہ جب عرب کی ابتدائی حالت پر نگاہ کرتے ہیں وہ تحت الثریٰ میںپڑے ہو ئے نظر آتے ہیں ۔بت پرستی میں منہک تھے یتیموںکا مال کھانے اور ہر قسم کی بدکاریوں میں دلیر اور بے باک تھے ۔ ڈاکوں کی طرح گذارہ کرتے تھے ۔ گویا سر سے پیرتک نجات میں غرق تھے ۔پھر میں وہ پوچھتاہوں وہ کونسااسم اعظم تھا جس نے اُن کوجھٹ پٹ کایا پلٹ دی اور ان کو ایسا نمونہ جس کی نظیر دُنیا کی قوموں ہر گزنہیں ملتی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اگر کوئی بھی معجزہ پیش نہ کریں تو اس حیرت انگیز پاک تبدیلی کے مقابلہ میں کسی خودساختہ ایک آدمی کا دُرست کرنا مشکل ہو تاہے ۔ مگر یہاں تو ایک قوم تیار کی گئی جنھوںنے اپنے ایمان اور اخلاص کا وہ نمونہ دکھایا کہ بھیڑبکری کی طرح اس سچائی کیلیے ذبح ہوگئے جس کو انھوں اختیار کیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے وہ زمینی نہ رہے تھے بلکہ رُسول اللہ ﷺکی تعلیم ہدایت اور مو ئثر نصیحت نے ان کو آسمانی بنادیا تھا ۔ قدسی صفات ان میں پیدا ہوگئی تھیں ۔دنیا کی خباثتوں اور ریاکاریوں سے وہ ایسے سبک اور ہلکے پھلکے کر دئیے گئے تھے کے ان میں پرواز کی قوت پیدا ہو گئی تھی ۔یہ وہ نمو نہ ہے جو ہم اسلام کا دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اسی اصلاح اور ہدایت کا باعث تھا جو اللہ تعالیٰ نے پیشگوئی کے طورپرآنحضرت ﷺکا نام محمد رکھاجس سے زمین پر بھی آپ کی ستائش ہوئی ۔کیو نکہ آپ نے زمین کو امن صلحکاری اور اخلاق فاضلہ اور نیکو کاری سے بھردیا تھا ۔
میںنے پہلے بھی کہا ہے کہ آنحضرت ﷺکے جس قدر اخلاق ثابت ہوے ہیں وہ کسی اور نبی کے نہیں ،کیونکہ اخلاق کے اظہار کے لیے جب تک موقع نہ ملے کوئی اخلاق ثابت نہیں ہو سکتا ۔مثلاًسخاوت ہے۔ لیکن اگر روپیہ نہ ہوتو اس کا ظہور کیونکر ہو ، ایسا ہی کسی کو لڑائی کا موقع نہ ملے تو شجاعت کیو نکرثابت ہو ۔ ایسا ہی عفو،اس صفت کووہ ظاہر کر سکتا ہے جسے اقتدارحاصل ہو ۔ غرض سب خلق موقع سے وابستہ ہیں ۔ اب یہ سمجھنا چاہئے یہ کس قدر خدا کے فضل کی بات ہے کہ آپ کو تمام اخلاق کے اظہار کے موقعے ملے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وہ موقعہ نہیںملے مثلاًآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخاوت کا موقع ملا ۔آپ کے پاس ایک موقع پر بہت سی بھیڑبکریاں تھیں ۔ ایک کافر نے کہا کے آپؐکے پاس اس قدر بھیڑ بکری جمع ہیں قیصر وکسریٰ کے پاس بھی اس قدر نہیں ۔ آپؐنے سب کی سب اس کو بخش دیں ۔ وہ اسی وقت ایمان لے آیا ۔ کہ نبی کے سوااور کوئی اس قسم کی عظیم الشان سخاوت نہیں کر سکتا ۔ مکہ میں جن لوگوں نے دکھ دئیے تھے ۔ جب آپؐ نے مکہ کو فتح کیا تو آپؐ چاہتے تو سب کو ذبح کر دیتے ، مگر آپؐ نے رحم کیا اور لاتثریب علیکم الیوم کہدیا ۔ آپؐ کا بخشناتھا کہ سب مسلمان ہوگئے ۔ اب اس قسم کے عظیم الشان اخلاق فاضلہ کیاکسی نبی میں