کی تھی۔رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ قوم موسیٰ کا یہ حال تھا کہ رات کو مومن ہیں تو دن کو مُرتد ہیں۔ آنحضرتؐ اور آپ کے صحابہؓ کا حضرت موسیٰؑ اور اس کی قوم کے ساتھ مقابلا کرنے سے گویا کُل دُنیا کا مقابلا ہو گیا۔ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو جماعت ملی وہ ایسی پاکباز اور خدا پرست اور مخلص تھی کہ اس کی نظیر کسی دنیا کی قوم اور کسی نبی کی جماعت میں ہر گز پائی نہیں جاتی۔ احادیث میں اُن کی بڑی تعریفیں آئی ہیں۔ یہانتک فرمایا۔ اللہ اللہ فی اصحابی اور قرآن کریم میں بھی ان کی تعریف ہوئی۔ یبیتون لر بھم سجّداوقیاما۔ (الفرقان:۶۵)
موسیٰ کی جماعت جن مشکلات اور مصائب طاعون وغیرہ کے نیچے آئی ۔ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی تیار کردہ جماعت اس سے ممتازاور محفوظ رہی اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور انفاس طیّبہ اور جزب اِلی اللہ کی قوت کا پتہ لگتاہے کے کیسی زبردست قوتیں آپ کو عطاکی گئی تھیں ۔جو ایسا پاک اور جانثار گروہ اکٹھاکر لیا ۔ یہ خیال بالکل غلط ہے جو جاہل لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یوںہی لوگ ساتھ ہو جاتے ہیںجب تک ایک قوت جزبہ اورکشش کی نہ ہو۔ کبھی ممکن نہیں ہے کے لوگ جمع ہوسکیں ۔میرامذہب یہ ہے کے آپ کی قوت قدسی ایسی تھی کہ کسی دوسرے نبی کو دنیا میں نہیں ملی ۔ اسلام کی ترقی کا یہ رازہے کہ نبی کریم ﷺکی قوت جزب بہت زبر دست تھی اور پھر آپ کی باتوں میں وہ تاثیر تھی کہ جو سنتاتھاوہ گرویدہ ہو جاتاتھا ۔ جن لوگوںکوآپنے کھینچا۔ان کوپاک صاف کر دیا ۔ اور اس کے ساتھآپ کی تعلیم ایسی سادہ اور صاف تھی کے اس میں کسی قسم کے گورکھ دھندے اور معمے تثلیث کی طرح نہیں ہیں ۔چناچہ نیپولین کی بابت لکھا ہے کہ وہ مسلمان تھا اور کہا کرتا تھا کہ اسلام بہت ہی سیدھا سادہ جو خداکے سامنے یا انسان کے سامنے شرمندہ نہیں ہوسکتا ۔قانون قدرت اور فطرت کے ساتھ ایساوابستہ ہے کے ایک جنگلی بھی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے تثلیث کی طرح کوئی لا یخل عُقدہ اس میں نہیں جس کو نہ خدا سمجھ سکے اور نہ ماننے والے جیساکے عیسائی کہتے ہیں ۔تثلیث قبول کرنے کے لیے ضروری ہے کے پہلے بت پرستی اور ادہام پرستی کرے اور عقل وفکر کی قوتوں کوبلکل بیکار اور معطل چھوڑدے حالانکہ اسلام کی توحید ایسی ہے کے ایک دنیا سے الگ تھلگ جزیرہ میںبھی وہ سمجھ آسکتی ہے ۔یہ دین جو عیسائی پیش کرتے ہیں عالم گیر اورمکمل نہیں ہو سکتا اور نہ انسان کوئی تسلی یا اطمینان پاسکتاہے ۔ مگر اسلام ایک ایسا دین ہے جو کیا بااعتبار توحید اور اعمال حسنہ اور کیا تکمیل مسائل ۔سب سے بڑھ کر ہے ۔ہزاروں قسم کی بد کا ریوں یہودیوں میں جو مو سیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھے پائی جاتی ہیںاور مسیح کی حواریوں کا ذکربھی کر نا نہین چاہتے جن میں سے ایک نے چند کھوٹے درہم لے کر اپنے آقا کو پکڑا دیا اور ایک نے لعنت کی اور کسی نے بھی وفاداری کا نمونہ نہ دکھایا ۔لیکن صحاب کی حالت کو دیکھتے ہیں تو ان میں کوئی جھوٹ بولنے والا بھی