حِصّوں میں گرفتار ہوتے ہیں۔ جب تک ان سے رہائی نہ ملے، انسان اپنے گمشدہ انوار کو حاصِل نہیں کر سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام دیئے ہیں۔ بعض اُن میں سے ایسی ہیں کہ ان کی بجاآوری ہر ایک کو میسّر نہیں ہے۔ مثلاً حج۔یہ اس آدمی پر فرض ہے جسے استطاعت ہو۔ پھر راستہ میں امن ہو۔ پیچھے جو متعلقین ہیں۔ اُن کے گذارہ کا بھی معقول انتظام ہو اور اسی قسم کی ضروری شرائط پوری ہوں تو حج کر سکتا ہے۔ ایسا ہی زکواۃ ہے۔یہ وُہی دے سکتا ہے جو صاحبِ نصاب ہو۔ ایسا ہی نماز میں بھی تغیرّات ہو جاتے ہیں۔
لیکن ایک بات ہے جس میں کوئی تغیّر نہیں۔ وہ ہے: لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔اصل یہی بات ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ سب اس کے مکمّلات ہیں۔ توحید کی تکمیل نہیں ہوتی جب تک عبادات کی بجا آوری نہ ہو۔ اس کے یہی معنے ہیں کہ لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ کہنے والا اس وقت اپنے اقرار میں سچّا ہوتا ہے کہ حقیقی طور پر عملی پہلو سے بھی وہ ثابت کر دکھائے کہ حقیقت میں اللہ کے سوا کوئی محبُوب و مطلوب اور مقصود نہیں ہے۔ جب اس کی یہ حالت ہو اور واقعی طور پر اس کا ایمانی اور عملی رنگ اس اقرار کو ظاہر کرہے والا ہو، تو وُہ خدا تعالیٰ کے حضور اس اقرار میں جھوٹا نہیں۔ ساری مادی چیزیں جل گئی ہیں اور ایک فنا اُن پر اس کے ایمان میں آگئی ہے۔ تب وہ لا الہ الا اللہ منہ سے نکالتا ہے اور محمد رسول اللہ جو اس کا دوسرا جُزو ہے وُہ نمونہ کے لیے ہے۔کیونکہ نمونہ اور نطیر سے ہر بات سہل ہو جاتی ہے۔ انبیاء علیہم السّلام نمونون کے لیے آتے نیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمیع کمالات کے نمونوں کے جامع تھے۔کیونکہ سارے نبیوں کے نمونے آپؐ میں جمع ہیں۔
آپؐ کا نام اسی لیے مُحمّدہے کہ اس کے معنی ہیں، نہایت تعریف کیا گیا۔ مُحمّد وُہ ہوتا ہے جس کی زمین و آسمان پر تعریف ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ دُنیا کے لوگوں نے ان کو نہایت حقارت کی نِگاہ سے دیکھا انہیں ذلیل سمجھا اور بخیلِ خویش ذلیل کیا، لیکن آسمان پر اُن کی عزّت اور تعریف کرتی ہے۔ ہر طرف سے واہ واہ ہوتی ہے۔وُہ خدا تعالیٰ کے حضور راستباز ہوتے ہیںاور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ دُنیا ان کی تعریف کرتی ہے۔ ہر طرف سے واہ واہ ہوتی ہے، مگر آسمان اُن پر لعنت کرتا ہے۔ خدا اور اس کے فرشتے اور مقرّب اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ تعریف نہیں کرتے۔ مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمین و آسمان دونوں جگہ میں تعریف کیے گئے اور یہ فخر اور فضل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ملاہے۔ جس قدر پاک گروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مِلا وہ کِسی اور نبی کو نصیب نہیں ہوا۔ یُوں تو حضرت موسیٰؑ کو بھی کئی لاکھ آدمیوں کی قوم مِل گئی، مگر وہ ایسے مستقل مزاج یا ایسی پاکباز اور عالی ہمّت قوم نہ تھی جیسی صحابہ